Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت

اقلیتی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت

اوورسیز اسکالر شپس اور آٹو رکشا اسکیم پر جلد عمل ، محمد محمود علی کا بیان
حیدرآباد۔/18ستمبر، ( سیاست نیوز) حکومت نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم اور شہر اور رنگاریڈی میں ایک ہزار غریب افراد کو آٹو رکشا کی فراہمی اسکیم پر جلد عمل آوری کے اقدامات کریں۔ انہوں نے اقلیتوں کو آٹو رکشا فراہمی کی اسکیم کے بارے میں رہنمایانہ خطوط طئے کرنے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کو ہدایت دی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت نے غریب اقلیتوں کی معاشی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے اس اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ چیف منسٹر کی منظوری سے شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد شہر اور رنگاریڈی میں 1000 غریب اقلیتی خاندانوں کو سطح غربت سے اونچا اٹھانا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ اس اسکیم پر عمل آوری کی جائے گی اور کارپوریشن آٹو کی خریدی کیلئے سبسیڈی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کی کامیابی کے بعد اسے دیگر اضلاع میں بھی توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب اقلیتی طلبہ کو بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال سے اس اسکیم پر عمل آوری کو ممکن بنایا جارہا ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار میرٹ کی بنیاد پر مستحق امیدواروں کا انتخاب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب طلبہ کو اس اسکیم کے تحت 10لاکھ روپئے کی فراہمی ٹی آر ایس حکومت کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی طبقات کیلئے یہ اسکیم موجود تھی لیکن ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کیلئے اسے توسیع دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10لاکھ روپئے کے علاوہ حکومت نے ایک طرف کا فضائی کرایہ بھی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہر سال اس اسکیم کے تحت تقریباً 250طلبہ بیرون ملک کی یونیورسٹیز میں حکومت کی امداد پر تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیس بازادائیگی، اسکالر شپ اسکیمات اور مسابقتی امتحانات میں اقلیتوں کیلئے کوچنگ کے اہتمام کے ذریعہ حکومت اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر بہت جلد جائزہ اجلاس طلب کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ محمد محمود علی سے چیف منسٹر نے خواہش کی کہ وہ اقلیتی بہبود کے اُمور کی نگرانی کریں تاکہ اسکیمات پر موثر عمل آوری میں مدد ملے۔ انہوں نے بتایا کہ حج ہاوز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کی بلڈنگ فیس کی معافی کے سلسلہ میں حکومت کے احکامات پر عمل آوری کیلئے کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے بات چیت کی جارہی ہے۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی کارپوریشن بی شفیع اللہ نے اجلاس منعقد کیا جس میں آٹو رکشا فراہمی کی اسکیم کے رہنمایانہ خطوط کو قطعیت دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواست گذار کیلئے کم از کم دسویں جماعت کامیاب ہونا لازمی قرار دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ درخواست گذار کی سالانہ آمدنی 2لاکھ روپئے سے کم ہونی چاہیئے اور اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہو۔

TOPPOPULARRECENT