Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی افراد کو آٹو رکشا اسکیم، درخواستوں کیلئے دو یوم میں اعلامیہ

اقلیتی افراد کو آٹو رکشا اسکیم، درخواستوں کیلئے دو یوم میں اعلامیہ

اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس، ڈپٹی چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔/19ستمبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ محمد محمود علی نے آج محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ غریب اقلیتی خاندانوں کے 1000 افراد کو آٹو رکشا فراہمی کی اسکیم کے رہنمایانہ خطوط جلد مرتب کریں اور اقلیتی فینانس کارپوریشن سے اسکیم پر عمل آوری کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے اسکالر شپ اور خاص طور پر اوورسیز اسکالر شپ برائے اقلیتی طلبہ کے بارے میں عہدیداروں سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت نے جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے جو بجٹ مختص کیا ہے اسے مکمل طور پر خرچ کیا جائے۔ محمود علی نے عہدیداروں سے کہا کہ اسکیمات پر تیزی سے عمل آوری کے ذریعہ مزید بجٹ کی اجرائی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی اجرائی میں کوئی دشواری نہیں ہے اور وہ اس سلسلہ میں محکمہ فینانس کے عہدیداروں سے بات چیت کریں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ پہلی مرتبہ حکومت نے دو منفرد اسکیمات کا آغاز کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مکمل شفافیت کے ساتھ ان پر عمل آوری کی جائے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ایم جے اکبر اور اسپیشل آفیسر حج کمیٹی و ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے اجلاس میں شرکت کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کو عہدیداروں نے مختلف اسکیمات کی پیشرفت سے واقف کرایا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ آٹو رکشا فراہمی کی اسکیم کیلئے رہنمایانہ خطوط مرتب کئے گئے ہیں اور ٹرانسپورٹ کمشنر سے اس کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ عہدیداروں کے مطابق اندرون دو یوم درخواستوں کی طلبی کیلئے اعلامیہ جاری کردیا جائے گا اور درخواستوں کے ادخال کیلئے 20دن کی مہلت دی جائے گی۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی سے تعلق رکھنے والے غریب اقلیتی افراد اسکیم سے استفادہ کے اہل ہوں گے۔ امیدواروں کی عمر 21تا 55سال کے درمیان ہونی چاہیئے اور وہ تلنگانہ کے متوطن اور ان کی رہائش حیدرآباد یا رنگاریڈی میں ہونی چاہیئے۔ امیدواروں کی سالانہ آمدنی 2لاکھ سے کم  ہونا ضروری ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق اسکیم پر مکمل شفافیت کے ساتھ عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے وہ شخصی طور پر نگرانی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عہدیداروں کے ساتھ اردو اکیڈیمی کی اسکیمات اور جاریہ سال حج کیلئے روانہ ہونے والے عازمین حج کیلئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں کئے گئے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے ذریعہ حکومت کی نیک نامی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اقلیتی طبقات نے حکومت سے جو امیدیں وابستہ کی ہیں ان پر کھرا اُترنا عہدیداروں کے ذمہ ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ بہتر تال میل کے ساتھ کام کریں اور کسی بھی مسئلہ کی صورت میں راست طور پر ان سے رجوع ہوں۔ 2اکٹوبر کو حکومت کی ’ شادی مبارک ‘ اسکیم کا ایک سال مکمل ہونے جارہا ہے اور اس موقع پر حکومت خصوصی پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے عازمین حج کے انتظامات سے واقف کرایا اور ڈپٹی چیف منسٹر نے حج کمیٹی کی کارکردگی کی ستائش کی۔

TOPPOPULARRECENT