Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی افراد کیلئے آٹو اسکیم کی طرز پر موٹر کار اسکیم کے آغاز کا فیصلہ

اقلیتی افراد کیلئے آٹو اسکیم کی طرز پر موٹر کار اسکیم کے آغاز کا فیصلہ

اضلاع میں دفاتر اقلیتی بہبود کیلئے اراضی کی نشاندہی ، پرانے شہر میں مسابقتی امتحانی کوچنگ سنٹر کا قیام
حیدرآباد۔/29اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے غریب اقلیتی افراد کیلئے آٹو رکشا اسکیم کی طرز پر موٹر کار فراہمی اسکیم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو اسکیم تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حکومت نے 7 اضلاع میں اقلیتی بہبود کے دفاتر کی تعمیر کیلئے اراضی کی نشاندہی کرلی ہے۔ پرانے شہر کے گورنمنٹ جونیر کالج حسینی علم میں مسابقتی امتحانات، اسپوکن انگلش اور دیگر کورسیس کی کوچنگ کیلئے سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز (CEDM)کا مرکز قائم کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان فیصلوں کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال اردو اکیڈیمی 250 گورنمنٹ اور امدادی اردو میڈیم مدارس کیلئے انفراسٹرکچر کی فراہمی کی اسکیم سے فی کس 50ہزار روپئے منظور کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کی اسکیمات اور بجٹ کے خرچ کے بارے میں آج اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد بتایا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی کمی کے سبب اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سست ہے۔ محکمہ میں تقریباً 250 اسٹاف کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں حکومت تقررات کیلئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آٹو اسکیم کیلئے حیدرآباد اور رنگاریڈی سے 2806 درخواستیں وصول ہوئی ہیں جن کی جانچ کا کام جاری ہے۔ انہوں نے اس کام کی عاجلانہ تکمیل اور 11نومبر کو یوم اقلیتی بہبود کے موقع پر آٹو رکشا کی اجرائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ضلع میں اس اسکیم کے تحت 500 آٹو رکشا کی فراہمی کی تجویز ہے۔ آٹو کی مالیت ایک لاکھ 40ہزار روپئے ہے اور اقلیتی فینانس کارپوریشن 50فیصد سبسیڈی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب اقلیتی خاندانوں کو ذاتی کار کا مالک بنانے کیلئے ’’ اوون یور کیاب‘‘ اسکیم کے تحت 1000 کاریں فراہم کرنے کا منصوبہ ہے اور عہدیداروں کو اسکیم تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آٹو اسکیم کی طرز پر اقلیتی فینانس کارپوریشن 50فیصد رقم بطور سبسیڈی فراہم کرے گا۔ محمد محمود علی نے بتایا کہ ہر ضلع میں اقلیتی بہبود کے تمام دفاتر کیلئے ایک عمارت کی تعمیر کے فیصلہ کے تحت ابھی تک 7اضلاع میں موزوں اراضیات کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور بہت جلد تعمیر کیلئے پلان  تیار کرتے ہوئے حکومت سے فنڈز کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع میں قیمتی اوقافی اراضیات موجود ہیں جن پر یہ عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں تاکہ اقلیتی افراد کو اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے مختلف دفاتر کے چکر کاٹنے سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم مدارس میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کیلئے 250اسکولوں کو جاریہ سال اردو اکیڈیمی سے فی کس 50ہزار روپئے جاری کئے جائیں گے۔ ادارہ انیس الغرباء کے انتظامات میں بہتری اور نئی عمارت کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ سڑک کی توسیع کے سلسلہ میں 170گز اراضی محکمہ بلدیہ حاصل کررہا ہے اور چیف منسٹر کے وعدہ کے مطابق انیس الغرباء کے عقبی حصہ میں تمام سہولتوں کے ساتھ نئی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یتیم لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کے علاوہ انہیں بہتر روزگار کی فراہمی اور ان کی شادی کا اہتمام حکومت کرے گی۔ محمود علی نے وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو یتیم خانہ کی حالت کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے وہاں موجود بچوں، آمدنی اور خرچ کی تفصیلات عوام کے مشاہدے کیلئے بورڈ پر آویزاں کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بتایا کہ عقبی حصہ میں موجود اراضی کے جلد حصول کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں حکومت کی دلچسپی کا اعادہ کرتے ہوئے بتایا کہ وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ کے مطابق بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات ریونیو ریکارڈ میں شامل ہوں۔ اس طرح اوقافی اراضیات کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درگاہ حضرت فقیر اللہ شاہؒ کی اراضی کا تحفظ کرتے ہوئے وہاں مسلم قبرستان کیلئے اراضی مختص کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے مختص کردہ 1131کروڑ کے منجملہ 486کروڑ روپئے جاری کئے گئے اور محکمہ کی جانب سے 350کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے تحت  بیرون ملک یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرنے والے 210 طلباء کو 10نومبر تک اسکالر شپ کی پہلی قسط جاری کردی جائے گی۔ اس اسکیم کیلئے منتخب 170طلباء نے ابھی تک اپنی تفصیلات داخل کردی ہیں اور 210طلباء کی جانب سے تفصیلات کے ادخال کے بعد تمام کیلئے پہلی قسط 5لاکھ روپئے جاری کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت جلد ہی اس اسکیم کیلئے مختص 25کروڑ روپئے جاری کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے 10اقامتی مدارس کے قیام کی تجویز ہے جن کی تعمیر پر 71کروڑ 65لاکھ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ اقامتی مدارس کیلئے موزوں اراضی کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی ای ڈی ایم کا ایک مرکز حسینی علم گورنمنٹ جونیر کالج میں قائم کیا جائے گا جس میں مسابقتی امتحانات، اسپوکن انگلش اور دیگر کورسیس کی کوچنگ دی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT