Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / اقلیتی اقامتی اسکولس میں آج سے داخلوں کا آغاز

اقلیتی اقامتی اسکولس میں آج سے داخلوں کا آغاز

آن لائن سسٹم ، کڈیم سری ہری اور محمد محمود علی رسمی طور پر افتتاح کریں گے
حیدرآباد۔/22 اپریل، ( سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کیلئے جون سے شروع ہونے والے 71 اقامتی اسکولس میں داخلوں کے آن لائن سسٹم کا کل 23اپریل کو باقاعدہ افتتاح عمل میں آئے گا۔ اقامتی اسکولوں کی سوسائٹی کے صدرنشین ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی آن لائن درخواستوں کے ادخال کا رسمی طور پر آغاز کریں گے۔ ہر ضلع سے 2 طلباء کو تقریب میں شریک کیا جائے گا اور ان کے داخلوں کا عمل آن لائن مکمل کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹرس اقامتی اسکولس کے پورٹل کا آغاز کریں گے۔ سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ نے بتایا کہ اس موقع پر اردو، تلگو اور انگریزی میں جاری کردہ بروچرس کی رسم اجراء انجام دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ہر ضلع کیلئے تیار کی گئی خصوصی پبلسٹی ویان کو جھنڈی دکھاکر روانہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آن لائن درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ 15مئی مقرر کی گئی ہے۔ درخواستوں کے ادخال کیلئے انکم اور برتھ سرٹیفکیٹ کے علاوہ آدھار کارڈ یا راشن کارڈ پیش کرنا ہوگا۔ بی سی ( ای ) سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ داخلہ کیلئے دیہی علاقوں میں خاندان کی سالانہ آمدنی دیڑھ لاکھ اور شہری علاقوں میں 2 لاکھ روپئے ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پانچویں تا ساتویں جماعت تک کلاسیس کا آغاز کیا جارہا ہے اور تعلیم انگریزی میڈیم میں ہوگی۔ ہر کلاس میں 2 سیکشن ہوں گے اور ہر سیکشن میں طلبہ کی تعداد 40رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کیلئے قائم کئے جارہے اقامتی اسکولس میں خصوصی سیکوریٹی انتظامات کئے جائیں گے۔ حکومت نے اس اسکیم کیلئے 350کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ ہر اسکول میں 75 فیصد طلبہ اقلیتی طبقہ کے ہوں گے جبکہ دیگر طبقات کیلئے 25فیصد نشستیں رہیں گی۔ شفیع اللہ کے مطابق تمام اضلاع میں عمارتوں کے انتخاب کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میناریٹیز ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی ہر طالب علم پر سالانہ 80000 روپئے خرچ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکوں کیلئے 39 اور لڑکیوں کیلئے 32 اسکولس قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک جن عمارتوں کا انتخاب کرلیا گیا ان میں 49سرکاری عمارتیں ہیں اور17 خانگی عمارتیں ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ اس سنہری موقع سے استفادہ کرتے ہوئے اسکولوں میں طلبہ کو داخل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے طالب علم کو اسی ضلع کے اسکول میں داخلہ دیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT