Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں آن لائن داخلہ سسٹم

اقلیتی اقامتی اسکولس میں آن لائن داخلہ سسٹم

آئندہ ہفتہ چیف منسٹر کے سی آر کے ہاتھوں رسم افتتاح ، انفراسٹرکچر کے نمونوں کا جائزہ
حیدرآباد۔ 13۔ اپریل ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ آئندہ ہفتہ اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کیلئے آن لائین سسٹم کا آغاز کریں گے۔ چیف منسٹر کی موجودگی میں بعض طلبہ و طالبات کے داخلہ سے متعلق آن لائین درخواستیں پر کی جائیں گی۔ اس تقریب کے لئے چیف منسٹر سے وقت مانگا گیا ہے۔ اسی دوران  ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں نے کہا کہ اقلیتوں کیلئے شروع کی جانے والے 71 اقامتی مدارس میں 60 مدارس کیلئے عمارتوں کا انتخاب کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے اقلیتی طبقہ سے اپیل کی کہ وہ اس سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کو اقامتی اسکولس میں داخلہ دلائیں۔ اے کے خاں نے آج اقامتی اسکولس میں فراہم کئے جانے والے فرنیچر کے نمونوں کا جائزہ لیا۔ سرکاری اداروں کو فرنیچر اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے حج ہاؤز میں خصوصی اسٹالس لگائے گئے تھے

جس میں طلبہ کیلئے بیڈس، کرسیوں ، اسٹڈی ٹیبل اور دیگر فرنیچر کو رکھا گیا تھا۔ اے کے خاں نے کہا کہ ہر اسکول میں معیاری فرنیچر فراہم کیا جائے گا تاکہ طلبہ اور طالبات کو بہتر تعلیم کے حصول میں مدد ملے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 71 اقامتی اسکولس میں ہر طالب علم پر سالانہ 80,000 روپئے خرچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جون سے اسکولوں کا آغاز ہوگا اور پہلے سال پانچویں تا ساتویں جماعت تک کلاسس رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ تقررات کا اعلامیہ اندرون دو یوم جاری کردیا جائے گا۔ پہلے مرحلہ میں 700 تقررات کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں پرنسپل اور ٹیچرس کی جائیدادیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن جلد سے جلد تقررات کا عمل مکمل کرلے گا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات میں تمام اہل اقلیتی امیدواروں کو شرکت کرنی چاہئے۔ ایسے امیدوار جو آئندہ ماہ ہونے والے ٹیٹ امتحان میں شرکت کر رہے ہیں، وہ بھی پبلک سرویس کمیشن میں درخواست داخل کرسکتے ہیں۔ اے کے خاں کے مطابق حکومت نے آئندہ سال اسکولوں کی ذاتی عمارت کی تعمیر کیلئے فی کس 20 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں ۔ ہر اسکول 5 ایکر اراضی پر محیط ہوگا۔ اسکولوں کیلئے سرکاری اراضی کی نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سال جن خانگی عمارتوں میں اسکولس شروع کئے جارہے ہیں، ان میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اولین ترجیح ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT