Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں بھی تقررات کیے جائیں

اقلیتی اقامتی اسکولس میں بھی تقررات کیے جائیں

حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی افسوسناک : محمد علی شبیر، تحفظات کے لیے بی سی کمیشن کی رپورٹ کا انتظار : محمود علی
حیدرآباد۔17جنوری(سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کے ذریعہ محکمہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر دئے گئے بیان میں 90فیصد کذب بیانی سے کام لیا گیا ہے ۔ قائد اپوزیشن جناب محمد علی شبیر نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ڈھائی سال کے عرصہ میں پہلی مرتبہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر مختصر مباحث کے آغاز پر ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی ترقی کے صرف اعلانات کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے انتخابات سے قبل اقتدار حاصل ہونے پر اندرون 4ماہ 12فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کا اعلان کیا تھا اس کے علاوہ وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات کی فراہمی اور اندرون 100یوم منی کنڈہ کی موقوفہ اراضی کی وقف بورڈ کو حوالگی کے اعلانات کئے گئے تھے لیکن ان اعلانات میں کسی ایک پر بھی عمل آوری نہیں کی گئی ۔ قائد اپوزیشن نے وقف بورڈ کے خلاف تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کے سپریم کورٹ میں پیش ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منی کنڈہ اراضی معاملہ میں حکومت نے وقف بورڈ کے خلاف پیروی کو مستحکم کیا ہے۔ قبل ازیں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے چلائی جانے والی اسکیمات پر عمل آوری کے متعلق مختصر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اقامتی اسکولوں کی تعداد کو 200تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2016-17کے دوران 71اقلیتی اقامتی اسکول قائم کئے گئے ہیں ۔حکومت کے منصوبہ میں شامل 200اسکولوں میں 100اسکولوں کو طالبات کیلئے مخصوص رکھا جائے گا۔ جناب محمد علی شبیر نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے ریاست میں ائمہ و موذنین کو 1000روپئے اعزازیہ کی ادائیگی کے ذریعہ ان کی غربت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جبکہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش جس کی مالی حالت ابتر بتائی جا رہی ہے اس کے باوجود بھی آندھرا پردیش میں فی مسجد 8ہزار روپئے جاری کئے جا رہے ہیں اسی طرح تلنگانہ میں موجود اردو اکیڈیمی کے کمپیوٹر مراکز تنخواہوں کی عدم اجرائی کرایہ اور برقی بلس کی عدم ادائیگی کے سبب بند ہوچکے ہیں ۔ریاست میں اردو کے فروغ کے لئے حکومت پر عدم سنجیدگی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے دفتر میں اردو مترجم موجود نہیں ہے جبکہ اردو ریاست کے سابقہ 10اضلاع میں 9ضلعوں میں دوسری سرکاری زبان کا موقف رکھتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایس سی ایس ٹی اقامتی اسکولوں میں تقررات کے ساتھ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تقررار کو بھی یقینی بنائے۔قائد اپوزیشن نے حج ہاؤز سے متصل عمارت کی عدم تکمیل اور نئے حج ہاؤز کے متعلق حکومت کی غیر واضح پالیسی کے علاوہ خانگی اقلیتی انجنیئرنگ کالجس کے بند ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ محمد محمود علی نے تحفظات کے متعلق ایوان کو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بی سی کمیشن کی رپورٹ کا انتظار ہے اور سدھیر کمیٹی نے رپورٹ پیش کردی ہے جسے بی سی کمیشن کے حوالہ کردیا گیا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کے مختلف پروگرامس اور منصوبوں کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کو کافی اہمیت حاصل ہونے لگی ہے۔

TOPPOPULARRECENT