Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کا باضابطہ آغاز

اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کا باضابطہ آغاز

تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کے لیے حکومت کے عملی اقدامات ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔/23اپریل، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتوں کیلئے جون سے شروع ہونے والے 71 اقامتی اسکولس میں آن لائن داخلوں کے ویب پورٹل کا افتتاح کیا۔ اس طرح ریاست کے 10اضلاع میں قائم کئے جارہے اقامتی اسکولس میں داخلوں کا آغاز ہوچکا ہے۔آن لائن داخلوں کی آخری تاریخ 15مئی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اقامتی اسکولس کی علحدہ ویب سائیٹ کا آغاز کیا اور مختلف زبانوں میں تیار کردہ بروچرس کی رسم اجراء انجام دی۔ انہوں نے 10اضلاع میں اسکولوں سے متعلق تشہیر کیلئے تیار کی گئی خصوصی گاڑیوں کو جھنڈی دکھاکر روانہ کیا۔ محمد محمود علی نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے بچوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے سنجیدہ ہیں اور انہوں نے 120 اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 71 اسکولس قائم کئے جارہے ہیں جن کا جون سے آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں پانچویں تا ساتویں جماعت کلاسیس کا اہتمام کیا جائیگا اور بعد میں انٹر میڈیٹ تک توسیع دی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ ہی ہر شعبہ میں ترقی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ پسماندگی کا خاتمہ صرف تعلیم سے  ممکن ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں اقلیتوں کو دلتوں سے زیادہ پسماندہ قرار دیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے غریب خاندانوں میں شادی کے مسئلہ کی یکسوئی کرکے ’ شادی مبارک ‘ اسکیم کا آغاز کیا جس کے تحت غریب خاندانوں کو 51ہزار روپئے ادا کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں 34000 سے زائد شادیوں کیلئے امداد دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کی اسکیم کی کامیابی کیلئے اقلیتی تنظیموں و رضاکارانہ تنظیموں کا تعاون ضروری ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ مسلمان دیگر اقوام کی طرح ہر شعبہ میں ترقی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اقامتی اسکولس میں دینی تعلیم و اخلاقیات کا مضمون شامل رہیگا تاکہ اسکولوں سے ذمہ دار شہریوں کو تیار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی اور تلنگانہ حکومت نے ہمہ جہتی ترقی کے اقدامات شروع کئے۔ انہوں نے کہا کہ خانگی اسکولوں میں تعلیم غریب خاندانوں کیلئے زبردست بوجھ ہے ایسے میں حکومت کے اقامتی اسکولس نعمت غیر مترقبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں لڑکیوں کو اقامتی اسکولس میں رکھنے کا رجحان کافی کم ہے لیکن حکومت یقین دلاتی ہے کہ لڑکیوں کیلئے مختص اقامتی اسکولس میں سارا عملہ خواتین پر مشتمل ہوگا۔ محمد محمود علی نے اوورسیز اسکیم کا حوالہ دیا اور کہا عہدیداروں نے چیف منسٹر کو شکایت کی تھی کہ 10لاکھ روپئے کی رقم طلبا سے وصول کی جائے تاکہ دوسرے طلبا کو دی جاسکے تاہم چیف منسٹر نے اسکی مخالفت کی اور 10لاکھ روپئے بطور امداد دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولس کے آغاز کے ذریعہ حکومت کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی اسکیم پر عمل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو آٹو رکشا کی فراہمی سے متعلق اسکیم کے پہلے مرحلہ میں 510 آٹوز جاری کئے گئے مزید آٹوز کی اجرائی باقی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ 15 دن میں باقی 1310 آٹو رکشا جاری کردیں۔ انہوں نے بتایا کہ حج سیزن کے آغاز سے قبل  حج ہاوز کی عمارت کی آہک پاشی اور کلر کا کام مکمل کرلیا جائے۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ اس سلسلہ میں ٹنڈر طلب کئے گئے ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں نے جو اسکولوں کی سوسائٹی کے صدر بھی ہیں ریاست میں اقامتی اسکولس کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے کہاکہ جملہ 120 اقامتی اسکولس میں 80000 طلبہ کو تعلیم سے آراستہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان اسکولوں کیلئے 2500 اساتذہ کا تقرر کیا جائے گا۔ حکومت نے ہر اسکول کیلئے 20کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ اے کے خاں نے کہا کہ صرف تعلیم کے ذریعہ ہی کسی بھی قوم کے مستقبل کو تابناک بنایا جاسکتا ہے لہذا اقلیتوں کو چاہیئے کہ وہ اقامتی اسکولس میں اپنے بچوں کو داخلہ دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولس سے انہیں امید ہے کہ معیاری تعلیم کے ساتھ طلباء فارغ ہوں گے اور اہم عہدوں تک پہنچیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں کے بہتر انتظامات اور کنٹرول کیلئے کم از کم 2سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے این جی اوز سے اسکیم میں تعاون کی اپیل کی۔ رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے اقامتی اسکولس کے آغاز پر حکومت کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اقلیتوں کو اسکولوں سے استفادہ کرنا چاہیئے۔ فاروق حسین نے کہا کہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور انہیں معیاری تعلیم سے ہم آہنگ کرنے میں اقامتی اسکولس اہم رول ادا کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لڑکیوں کے اسکولس میں سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کریں تاکہ طالبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ فاروق حسین نے حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کی ضرورت ظاہر کی۔ رکن قانون ساز کونسل محمد سلیم نے اسکولوں کے آغاز کو ٹی آر ایس حکومت کا کارنامہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں اس طرح کی منفرد اسکیم کا آغاز نہیں کیا گیا۔ محمد سلیم نے کے سی آر کو گاندھی جی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح گاندھی جی ہمیشہ قوم کی بھلائی کی فکر کرتے تھے اسی طرح چندر شیکھر راؤ عوام کی بھلائی کے بارے میں دن رات فکر مند ہیں۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن و سکریٹری اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ نے خیرمقدم کیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے اقلیتی اسکیمات کی تفصیلات بیان کی۔ تقریب میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے بعض طلباء بشمول ایک سکھ طالب علم نے آن لائن داخلہ حاصل کیا۔

TOPPOPULARRECENT