Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ

اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ

ریاست بھر کے عہدیداروں کے ساتھ صورتحال کا جائزہ ، اے کے خاں کی ہدایت
حیدرآباد۔ 2۔ مئی  ( سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کیلئے جون سے قائم ہونے والے 71 اقامتی اسکولس میں طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں نے آج ریاست بھر کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کرتے ہوئے طلبہ کے داخلوں کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور نوڈل آفیسرس کو ہدایت دی کہ وہ سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں اور قائدین سے تعاون حاصل کرتے ہوئے اسکولوں میں طلبہ کے داخلوں کی باقاعدہ مہم چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں ابھی تک 962 اقلیتی طلبہ نے آن لائین نام درج کرائے ہیں۔ تمام اضلاع میں داخلوں کے بارے میں حوصلہ افزاء ردعمل ہے اور عہدیداروں کو چاہئے کہ اقلیتوں کے کابینی مستقبل سے متعلق اس اسکیم کی کامیابی پر خصوصی توجہ دیں۔ اجلاس میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ ، سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور ، چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ ، سروے کمشنر وقف معصومہ بیگم کے علاوہ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر، کارپوریشن کے اگزیکیٹیو ڈائرکٹرس اور ہر ضلع میں اسکولوں کے سلسلہ میں بنائے گئے نوڈل آفیسرس نے شرکت کی ۔ اے کے خاں نے داخلوں کی تفصیلات جاننے کے بعد ہدایت دی کہ اردو اکیڈیمی کے 43 کمپیوٹر سنٹرس اور 30 لائبریریز کو داخلوں کے مراکز میں تبدیل کردیا جائے ۔ وہاں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرتے ہوئے آن لائین داخلوں کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر میں بھی انرولمنٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پبلیسٹی کے لئے تیار کردہ موبائیل ویانس میں بھی انٹرنیٹ سہولت کے ساتھ طلبہ کے داخلہ کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔ عوام اگر چاہیں تو موبائیل ویان میں اپنے بچوں کے نام انرول کرسکتے ہیں۔ ابھی تک اقامتی اسکولس کیلئے سب سے زیادہ درخواستیں 184 محبوب نگر سے داخل کی گئیں جبکہ سب سے کم 14 درخواستیں ضلع نظام آباد سے داخل کی گئی ہیں۔ دیگر اضلاع میں حیدرآباد 155 ، رنگا ریڈی 81 ، نلگنڈہ 90 ، میدک 37 ، عادل آباد 127 ، کریم نگر 64 ، ورنگل 93 اور کھمم سے 117 درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ اے کے خاں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ کمپیوٹر سنٹر اور لائبریریز کے ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ فوری طور پر ادا کردی جائے جبکہ باقی دو ماہ کی تنخواہ بجٹ کی اجرائی کے بعد جاری کی جائے گی۔ اسکولوں میں داخلہ کیلئے 15 مئی آخری تاریخ ہے ، تاہم اس میں توسیع کا امکان ہے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمپیوٹر سنٹرس میں طلبہ کے انرولمنٹ کا اندرون تین دن آ غاز کر دیا جائے۔ 10 مئی تک تمام اسکول بلڈنگس کے مالکین کے ساتھ معاہدات مکمل کرلئے جائیں گے ۔ تاحال 68 عمارتوں کا انتخاب کیا گیا ہے اور 50 فیصد عمارتوں کے معاہدے مکمل ہوگئے۔ اے کے خاں نے کہا کہ 15 مئی تک عمارتیں حاصل کرلی جائیں اور ان میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا کام شروع کردیا جائے۔ انہوں نے طلبہ کے داخلوں کے سلسلہ میں ہر ضلع اور منڈل کی سطح پر بہتر انداز میں تشہیر کا مشورہ دیا۔ اے کے خاں نے کہا کہ چیف منسٹر اس اسکیم کے بارے میں کافی سنجیدہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی صورت میں 71 اقامتی اسکولس جون سے کارکرد ہوجائیں۔

TOPPOPULARRECENT