Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کے آغاز کی تقریب مایوس کن

اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کے آغاز کی تقریب مایوس کن

عوام کو دانستہ اذیت، ساؤنڈ سسٹم ناکارہ، تصویرکشی و خوشنودی پر توجہ

حیدرآباد۔/23اپریل، ( سیاست نیوز) اقلیتی اقامتی اسکولس میں آن لائن داخلوں کے آغاز کی تقریب مایوس کن ثابت ہوئی اور منتظمین اس تقریب کے شاندار انعقاد میں ناکام ثابت ہوئے۔ تقریب میں موجود اہم شخصیتوں اور سامعین نے خود بھی کئی دشواریوں کا سامنا کیا۔ ایک طرف ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں اقامتی اسکولس کے آغاز کی اسکیم پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے دن رات محنت کررہے ہیں تو دوسری طرف اقامتی اسکولس کی سوسائٹی میں ان کے ماتحت افراد کی رفتار سُست دکھائی دے رہی ہے۔ تقریب کے انعقاد کیلئے حج ہاوز سے متصل کھلی اراضی کا انتخاب کیا گیا جو غلط فیصلہ تھا۔ تقریب ٹھیک 12 بجے شروع ہوئی اور اس وقت چلچلاتی ہوئی دھوپ اور گرمی کی شدت سے نہ صرف سامعین بلکہ اسٹیج پر موجود افراد بھی بے چین دکھائی دے رہے تھے۔ حکام نے شامیانے کا تو انتظام کیا تھا لیکن چھت پر صرف کپڑے کا شامیانہ تھا جس کے باعث دھوپ سے محفوظ رہنا ممکن نہیں تھا۔ ایسے وقت جبکہ حیدرآباد میں دن کا درجہ حرارت 42تا43 ڈگری پہنچ چکا ہے ایسے میں کھلے علاقہ میں ناموزوں شامیانے کے ساتھ تقریب کا انعقاد عوام کو جان بوجھ کر اذیت میں مبتلاء کرنا ہے۔ کئی سامعین نے اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں کی توجہ مبذول کرائی۔ ساؤنڈ سسٹم بھی انتہائی ناکارہ تھا اور تقاریر کے دوران کئی بار مائیک بند ہوگیا۔ تقریب کے منتظمین اور خاص طور پر کارروائی چلانے والے کو صرف اہم شخصیتوں کے ساتھ تصویر کشی اور ان کی خوشنودی سے فرصت نہیں تھی۔ انہوں نے سامعین کی ان تکالیف پر کوئی توجہ نہیں کی جبکہ خود ڈپٹی چیف منسٹر کو یہ ہدایت دینی پڑی کہ گرمی کی شدت کو دیکھتے ہوئے تقریب کو مختصر کیا جائے۔ تقریب کے مقام پر بہت کم ایر کولرس کا انتظام کیا گیا۔ تقریب کے آغاز میں سامعین کی تعداد انتہائی کم تھی تاہم بعد میں بعض اسکولوں کے بچے تقریب میں شامل ہوگئے۔ شدید گرمی کے باعث تقریب کے اختتام تک سامعین کو پانی کیلئے بھی ٹینٹ سے باہر جانا پڑ رہا تھا۔ اقامتی اسکولس کی اسکیم میں رضاکارانہ تنظیموں اور بعض مذہبی جماعتوں کا اہم رول ہے لیکن افسوس کہ منتظمین نے صرف اپنی پسند کے چند سماجی کارکنوں کو اسٹیج پر طلب کیا جبکہ بنیادی سطح سے کام کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندوں کو بری طرح نظرانداز کردیا گیا جس سے وہ سخت نالاں دکھائی دے رہے تھے۔ ریاست کی ایک اہم مذہبی جماعت کے ذمہ دار جب اسٹیج پر پہنچے تو سوسائٹی کے او ایس ڈی نے ان کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے اسٹیج سے اُترنے کیلئے مجبور کردیا۔ منتظمین کی بدانتظامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسکولوں کے آغازکے پہلے دن ہی عہدیداروں میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ مختلف اقلیتی اداروں کے ذمہ دار گرمی کی شدت میں مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے عمارتوں کے انتخاب کے اہم کام میں مصروف ہیں لیکن اس تقریب میں انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ اور سروے کمشنر وقف معصومہ بیگم کو تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا جس سے عہدیدار یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اپنے ادارہ کی ذمہ داریوں کے علاوہ گرمی کی شدت میں گھوم کر اسکولوں کیلئے کام کرنے کا یہ صلہ ملا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری اور مرکزی وزیر بنڈارودتاتریہ کے علاوہ کئی اہم عوامی نمائندے تقریب سے غیر حاضر رہے۔ اسٹیج پر جو بیانر لگایا گیا تھا وہ انگریزی میں تھا اور اردو کے ایک لفظ کو برائے نام شامل کیا گیا تھا۔ بیانر ہی نہیں تشہیری گاڑیوں پر باہری حصہ میں اردو غائب تھی۔ گاڑیوں کے اندرونی حصہ میں اردو کو شامل کیا گیا۔ اقامتی اسکولس اقلیتوں کیلئے قائم کئے جارہے ہیں لیکن اسکولس کی سوسائٹی نے اردو زبان کو ہی نظراندازکردیا۔ اردو زبان میں جو بروچر جاری کیا گیا اس کے سرِورق پر لفظ ’’ سنہری تلنگانہ‘‘ لکھا گیا جبکہ وہاں ’’ سنہرا تلنگانہ ‘‘ آنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT