Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلے، تاریخ میں 23 مئی تک توسیع

اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلے، تاریخ میں 23 مئی تک توسیع

آن لائن رجسٹریشن کا حوصلہ افزاء ردعمل نہیں، رضاکارانہ تنظیموں سے نشانہ کی تکمیل کی کوشش
حیدرآباد۔/14مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی طلباء کیلئے جون سے شروع کئے جانے والے 71اقامتی اسکولس میں داخلوں کی آخری تاریخ میں 23مئی تک توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آن لائن رجسٹریشن کا حوصلہ افزاء رد عمل نہ ہونے کے سبب یہ فیصلہ کیا گیا۔ اقامتی اسکولس میں داخلوں کیلئے آن لائن درخواستوں کے ادخال کا 23 اپریل کو آغاز ہوا تھا اور آخری تاریخ 15مئی مقرر کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد سمیت 10اضلاع میں داخلوں کے سلسلہ میں اقلیتوں میں خاطر خواہ ردعمل نہیں دیکھا گیا جس کے نتیجہ میں تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اقلیتی اسکولس سے متعلق سوسائٹی کے ذرائع نے بتایا کہ تاریخ میں توسیع کا باقاعدہ اعلان اتوار یا پیر کے دن کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ حکومت نے کسی بھی صورت میں 10اضلاع میں 71 اقامتی اسکولس کے جون سے آغاز کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں جنگی خطوط پر عمارتوں کے انتخاب اور طلباء کے داخلوں کا کام جاری ہے۔ سوسائٹی نے عمارتوں کے انتخاب کیلئے اقلیتی بہبود کے مختلف عہدیداروں کی خدمات حاصل کی ہیں جبکہ اسکولوں میں داخلہ کیلئے مختلف رضاکارانہ تنظیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ رضاکارانہ تنظیمیں مختلف سطح پر اقلیتوں میں شعور بیداری کے ذریعہ داخلوں کے نشانہ کو مکمل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سوسائٹی کی جانب سے جس انداز میں تشہیری مہم چلائی جانی تھی اس کی کمی ہے جس کا اثر رجسٹریشن پر پڑ رہا ہے۔ آج شام تک آن لائن رجسٹریشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 12672 طلباء نے داخلوں کیلئے آن لائن رجسٹریشن کیا ہے۔ سب سے زیادہ درخواستیں ضلع نلگنڈہ سے داخل کی گئیں جبکہ سب سے کم داخلے حیدرآباد میں ہوئے ہیں۔ 71 اقامتی اسکولس کیلئے جملہ 17000 طلباء کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ آن لائن رجسٹریشن میں اقلیتوں سے زیادہ غیر اقلیتی طلباء نے اپنے نام رجسٹریشن کرائے ہیں۔ 12672 میں 5308 طلباء کا تعلق مسلم اقلیت سے ہے جبکہ 7364 طلباء دیگر طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اسکولس اگرچہ اقلیتوں کیلئے قائم کئے جارہے ہیں لیکن اس میں داخلہ کیلئے دیگر اقلیتی طبقات جیسے عیسائی، سکھ، بدھسٹ، جین اور پارسیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کرسچین طبقہ سے صرف 135 درخواستیں داخل کی گئیں جبکہ 4سکھ طلباء نے اپنے نام رجسٹر کرائے ہیں۔ بدھسٹ، جین اور پارسی طبقہ سے ایک بھی درخواست داخل نہیں کی گئی۔ حکومت نے اقامتی اسکولس میں 75فیصد نشستیں اقلیتوں کیلئے الاٹ کی ہیں اور 25فیصد نشستیں دیگر طبقات کیلئے مختص کی گئیں۔ لیکن آن لائن رجسٹریشن کا رجحان خود سوسائٹی میں شامل افراد کیلئے حیرت کا باعث ہے۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ داخلوں کے سلسلہ میں مسلم اقلیت میں شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ عہدیداروں نے کہا کہ جتنی درخواستیں داخل کی گئیں ان تمام کا داخلوں کیلئے مستحق قرار پانا یقینی نہیں۔ اس طرح کم سے کم 20,000 سے زائد درخواستیں داخل ہوتی ہیں تو ان میں سے 17,000 کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ درخواستوں کے ادخال کی تکمیل کے بعد غیر اقلیتی طلباء کے زائد رجسٹریشن کے سبب نشستوں کے الاٹمنٹ پر الجھن پیدا ہوسکتی ہے۔اقلیتوں کی جانب سے کم درخواستوں کے ادخال کی صورت میں غیر اقلیتی طلباء کو داخلہ دینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ آج شام تک کے اعداد و شمار کے مطابق 5308 میں مسلمانوں کے مختلف زمرہ جات سے او سی 895 ، بی سی اے 58، بی سی بی 474 اور بی سی ای  کے تحت 3881 درخواستیں داخل کی گئیں۔ ایس سی 2640، ایس ٹی 1647، غیر اقلیت او سی 205، غیر اقلیت بی سی 2733 درخواستیں داخل ہوئی ہیں۔ محبوب نگر سے 2204، رنگاریڈی 873، حیدرآباد 758، میدک 1231، نظام آباد 308، عادل آباد 1469، کریم نگر 1093 ، ورنگل 1513، کھمم 928 اور نلگنڈہ سے 2301درخواستیں داخل کی گئیں۔ مسلم اقلیت میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کا تناسب کافی کم ہے۔

TOPPOPULARRECENT