Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات پر رہنمایانہ خطوط جاری

اقلیتی اقامتی اسکولس میں نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات پر رہنمایانہ خطوط جاری

ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کا اجلاس ، بی شفیع اللہ اور سید اکبر حسین کا خطاب
حیدرآباد۔ 5 مئی (سیاست نیوز) اقلیتی اقامتی اسکولس میں نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کے سلسلہ میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو رہنمایانہ خطوط جاری کیئے گئے ہیں۔ سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین سید اکبر حسین نے حیدرآباد میں تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کا اجلاس طلب کیا جس میں جاریہ سال سے قائم ہونے والے 121 اقامتی اسکولوں میں نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کے سلسلہ میں مقامی عوامی نمائندوں کی مداخلت اور سفارشات کے باعث سوسائٹی کو کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔ اقامتی اسکول سوسائٹی نے فیصلہ کیا کہ نان ٹیچنگ اسٹاف میں کم سے کم 70 فیصد کا تعلق اقلیتی طبقے سے ہونا چاہئے۔ باقی 30 فیصد پر غیر اقلیت کے امیدواروں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی نے جن ناموں کی سفارش کی ہے اس اعتبار سے اقلیتی اقامتی اسکولوں میں غیر اقلیت اسٹاف کا فیصد 70 سے زائد پہنچ جائے گا۔ اقلیتی طلباء و طالبات کے مسائل کی یکسوئی اور ان کی بہتر طور پر خدمت انجام دینے کا کام اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والا اسٹاف کرسکتا ہے۔ اگر اقلیتی اداروں میں غیر اقلیت کا غلبہ ہوجائے تو اس سے کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ضلع کلکٹرس کے ساتھ اجلاس میں اس بات کا خیال رکھیں کہ اسٹاف کی اکثریت مسلم اقلیت طبقے سے ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں مخلوعہ نشستوں کو پر کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ 121 اقامتی اسکولس میں داخلوں کے لیے ریاست گیر سطح پر مہم کے باوجود ابھی بھی بعض مقامات پر نشستیں خالی ہیں اس کے علاوہ گزشتہ سال شروع کئے گئے 71 اقامتی اسکولس کی موجودہ کلاسس میں بھی نشستیں موجود ہیں۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان نشستوں کو پر کرنے کے لیے رضاکارانہ تنظیموں کی مدد سے مہم چلائیں تاکہ اسکولوں کے قیام کے مقاصد کی تکمیل ہوسکے۔ حکومت نے اقلیتی طبقے کے لیے جملہ 201 اقامتی اسکولوں کو منظوری دی ہے۔ سکریٹری سوسائٹی بی شفیع اللہ اور صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین نے عوام سے یہ اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اقامتی اسکولس میں داخلہ دلائیں جہاں کارپوریٹ طرز کی تعلیم حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جارہی ہے۔ ہر طالب علم پر حکومت سالانہ 80 ہزار روپئے تک خرچ کررہی ہے اور ہاسٹل میں بہتر سہولتوں کو یقینی بنایا گیا ہے۔ سوسائٹی کے صدر اور حکومت کے مشیر اے کے خان کی نگرانی میں سوسائٹی نے اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی مہم شروع کی ہے۔ کئی رضاکارانہ تنظیموں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے طلبہ و اساتذہ کے معیار کو بلند کرنے کی مساعی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد بی شفیع اللہ مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے اسکولوں میں داخلوں اور جون سے تعلیم کے آغاز کا جائزہ لیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT