Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس میں کیٹرنگ کا تنازعہ عدالت سے رجوع

اقلیتی اقامتی اسکولس میں کیٹرنگ کا تنازعہ عدالت سے رجوع

حیدرآباد۔/7اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی اقامتی اسکولس سوسائٹی میں کیٹرنگ سرویس کی منسوخی کا معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ سوسائٹی نے 204 اسکولوں اور 2 جونیر کالجس میں پکوان کے اسٹاف کے سلسلہ میں جس ادارہ سے کنٹراکٹ کیا تھا اسے اچانک منسوخ کردیا گیا جس پر مذکورہ ادارہ نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ جون میں اقامتی اسکول سوسائٹی نے سہارا اسوسی ایٹس اینڈ کیٹرنگ سرویسیس سے معاہدہ کیا تھا جس کے تحت تمام 206 اداروں میں باورچیوں اور ہلپرس کی خدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ یکم جون سے اس تنظیم نے اپنی کارکردگی کا آغاز کیا جبکہ 13 جولائی کو اسے ورک آرڈر حوالے کیا گیا۔ کیٹرنگ ادارہ کا کہنا ہے کہ معاہدہ کے مطابق اگر ان کی خدمات اطمینان بخش نہ ہوں تو ایک ماہ قبل نوٹس دی جانی چاہیئے لیکن سوسائٹی نے انہیں کوئی نوٹس نہیں دی۔ اس طرح معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی۔ یہ معاہدہ تعلیمی سال 2017-18 کیلئے کیا گیا تھا لیکن یکطرفہ طور پر 25 ستمبر کو منسوخی کے احکامات روانہ کردیئے گئے۔ عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے کہ منسوخـی کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ دوسری طرف سوسائٹی کا کہنا ہے کہ مذکورہ ادارہ نے اپنے پکوان اسٹاف کو تنخواہیں ادا نہیں کی جس کے باعث پکوان کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سوسائٹی نے موجودہ پکوان اسٹاف کو ماہانہ تنخواہ کی بنیاد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم وہ اب راست طور پر سوسائٹی کے ملازم ہوں گے۔

 

TOPPOPULARRECENT