Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکولس کے طلبہ پر وندے ماترم کا لزوم نہ کرنے کی ہدایت

اقلیتی اقامتی اسکولس کے طلبہ پر وندے ماترم کا لزوم نہ کرنے کی ہدایت

قومی ترانہ ’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘ پڑھانے کے احکامات
دینیات کا مضمون ندارد ، مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ جاری
حیدرآباد ۔ 25۔ جولائی (سیاست نیوز) اقلیتی اقامتی اسکولس کے پرنسپلس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبہ پر وندے ماترم کا لزوم عائد نہ کریں اور روزانہ اسکول کے آغاز پر قومی ترانہ اور ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ پڑھایا جائے۔ روزنامہ سیاست نے مختلف اضلاع میں پرنسپلس اور اساتذہ کی جانب سے مسلم طلبہ کو وندے ماترم پڑھنے کیلئے مجبور کرنے سے متعلق شکایات کا انکشاف کیا تھا جس کے فوری بعد اقامتی اسکولس کی سوسائٹی حرکت میں آگئی ۔ سوسائٹی کے اعلیٰ عہدیداروں نے مختلف اضلاع سے رپورٹ طلب کی جس میں بتایا گیا کہ عادل آباد ، نظام آباد اور میدک میں واقع اقامتی اسکولس کے طلبہ نے وندے ماترم پڑھائے جانے کی شکایت کی ہے۔ ان اسکولوں میں غیر اقلیتی طبقہ کے پرنسپلس اور اساتذہ ہیں، جو غیر محسوس طریقہ سے مسلم طلبہ پر زعفرانی کلچر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوسائٹی کے عہدیداروں نے اس سلسلہ میں زبانی ہدایات دینے کے علاوہ تحریری طور پر نوٹس جاری کی ہے جس میں صبح 9 بجے سے اسکول کے آغاز کا شیڈول جاری کیا گیا ۔ سوسائٹی کے احکامات کے مطابق صبح 9 بجے طلبہ سب سے پہلے ترانہ اقبال ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ پڑھیں گے۔ اس کے بعد تلنگانہ کا نغمہ ’’جئے جئے تلنگانہ‘‘ پڑھایا جائے۔ پرنسپل کی نصیحتوں پر مبنی تقریر کے بعد قومی ترانہ ’’جن گن من‘‘ پڑھایا جائے۔ سوسائٹی نے ان اطلاعات کی توثیق کی کہ بعض مقامات پر ’’وندے ماترم‘‘ پڑھانے کی کوشش کی گئی۔ سوسائٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ دراصل اقامتی اسکولس میں پرنسپلس اور اساتذہ کی اکثریت غیر اقلیتی طبقہ سے تعلق ہونے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ پرنسپلس کو گائیڈ لائنس جاری نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں انہوں نے وندے ماترم پڑھنے کے لئے مجبور کیا۔ اسی دوران طلبہ اور اولیاء طلبہ سے شکایات مل رہی ہیں کہ اقامتی اسکولس میں غیر محسوس انداز میں مخصوص تہذیب کو متعارف کرنے اور مسلم طلبہ کو اس میں شامل ہونے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ حکومت نے مسلم طلبہ کیلئے دینیات بطور مضمون شامل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ان متاثر ذہن اساتذہ اور پرنسپلس کی سرگرمیاں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ طلبہ کے سرپرست اس امید سے بچوں کو شریک کر رہے ہیں کہ وہ دینیات اور اخلاقیات کی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم حاصل کریں گے لیکن وہاں صورتحال مختلف ہیں۔ اقلیتی اسکولوں کی سوسائٹی کے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ وقتاً فوقتاً اسکولوں کا دورہ کرتے ہوئے طلبہ کے مسائل کا جائزہ لیں۔ سوسائٹی کے ذرائع کے مطابق پرنسپلس اور اساتذہ کے تقرر میں جلد بازی کے سبب زیادہ تر تقررات اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں میں مسلم امیدواروں کی تعداد انتہائی کم تھی، جس کے بعد مجبوری میں غیر اقلیتی افراد کا تقرر کرنا پڑا۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ تقررات میں انگلش میڈیم کو ملحوظ نہیں رکھا گیا جبکہ اقامتی اسکولس میں ذریعہ تعلیم انگلش میڈیم ہے۔سوسائٹی نے غیر انگریزی داں اساتذہ کو فوری طور پر تبدیل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ 71 اقامتی اسکولس کے منجملہ بیشتر اسکولوں میں ابھی تک بنیادی انفراسٹرکچر فراہم نہیں کیا گیا جس کے سبب طلبہ کو  مشکلات کا سامنا ہے۔ فرنیچر ، بیڈ ، بنچیس اور دیگر بنیادی سہولتیں ابھی تک فراہم نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ ناقص غذا کی سربراہی کی شکایت ملی ہے۔ کئی اسکولوں میں سرپرستوں نے اپنے بچوں کو واپس طلب کرلیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT