Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اقامتی اسکول کو ٹیچرس اور اسٹاف کی فراہمی پر زور

اقلیتی اقامتی اسکول کو ٹیچرس اور اسٹاف کی فراہمی پر زور

تقررات میں تاخیر کا امکان ، سکریٹری اقلیتی بہبود کی محکمہ تعلیم سے نمائندگی
حیدرآباد۔ 4۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں قائم ہونے والے اقلیتی اقامتی اسکولس کے ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات میں امکانی تاخیر کو دیکھتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود نے اساتذہ کی فراہمی کے سلسلہ میں محکمہ تعلیم سے نمائندگی کی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ 71 اقلیتی اقامتی اسکولس جون سے کام کا آغاز کردیں گے ۔ ایسے میں اساتذہ کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے محکمہ تعلیم سے 640 اساتذہ کی خدمات فراہم کرنے کیلئے مکتوب روانہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن سے خواہش کی گئی کہ 640 ٹیچنگ اسٹاف کے تقرر کیلئے اعلامیہ جاری کرے۔ توقع ہے کہ بہت جلد پبلک سرویس کمیشن اعلامیہ جاری کردے گا۔ تاہم تقررات کے عمل کی تکمیل کیلئے 45 دن درکار ہیں۔ ایسے میں اسکولوں کے آغاز کا وقت آجائے گا ۔ لہذا فوری طور پر اسکولوں کے آغاز کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ تعلیم سے ڈیپیوٹیشن پر اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم میں انگلش میڈیم کے اساتذہ کی خدمات حاصل کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ ٹیچرس کے تقررات پر اقلیتی اقامتی اسکولس میں مامور کیا جائے گا ۔ عمر جلیل کے مطابق اس سلسلہ میں ایس سی ریسیڈنشیل اسکول سوسائٹی کے سکریٹری پراوین کمار آئی پی ایس سے بھی بات چیت کی جارہی ہے کیونکہ ان کی سوسائٹی کامیابی کے ساتھ اقامتی اسکولس چلا رہی ہے۔ سکریٹری نے بتایا کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ کسی بھی صورت میں جون سے اقامتی اسکولس کارکرد ہوجائیں اور تعلیم کا باقاعدہ آغاز ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ میں سنجیدہ ہے اور ہر طالب علم پر سالانہ 80,000 روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ داخلوں کیلئے اقلیتوں میں شعور بیداری کی مہم جاری ہے اور ابھی تک آن لائین رجسٹریشن کا موقف حوصلہ افزاء ہے۔

TOPPOPULARRECENT