Friday , August 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اقلیتی اقامتی مدارس سے عہدیداروں کی لاپرواہی

اقلیتی اقامتی مدارس سے عہدیداروں کی لاپرواہی

کریم نگر میں منظورہ اسکول کی عمارت کی تعمیر کیلئے دوسرے مقام پر اراضی کی نشاندہی

کریم نگر ۔ 25 ۔ اگسٹ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اقلیتی اقامتی مدارس کی عمارتوں کی تعمیر کے سلسلہ میں ریونیو عہدیدار دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں ۔ جاریہ سال ضلع کریم نگر میں (8) اقلیتی اقامتی مدارس کی منظوری مل چکی ہے جس مقام پر اسکول کی منظوری مل چکی ہے وہاں اسکول کی عمارت کی تعمیر کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جانی چاہئے لیکن کسی کو دلچسپی ہی نہیں کریم نگر میں منظور شدہ اسکول کی عمارت کی تعمیر کریم نگر کی بجائے دوسرے حلقہ میں اراضی مختص کی جارہی ہے جبکہ نائب وزیراعلی جناب محمد محمود علی اپنے دورہ کریم نگر کے دوران ریونیو عہدیداروں کو اقلیتی اقامتی اسکول کی طرف توجہ دلانا چاہئے تھا لیکن انہوں نے اسے ضروری نہیں سمجھا اس لئے متعلقہ ریونیو عہدیداروں میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ۔ کریم نگر ضلع میں (8) اقامتی اسکول کی منظوری دی گئی ۔ کریم نگر مستقر میں ایک گرلس اور ایک بوائز ، سرسلہ ، جگتیال ، پدا پلی میں گرلس اسکول ، حضورآباد ، کورٹلہ اور رام گنڈم میں بائز اسکول کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ فی الحال امسال مدارس کا آغاز خانگی عمارتوں میں کیا گیا نیز ذاتی عمارتوں کی تعمیر کیلئے فنڈس بھی محتص کئے گئے ۔ سرسلہ کے اقامتی اسکول کیلئے سروے نمبر 337 میں 96) ایکڑ اراضی مختص کی گئی ، کورٹلہ میں سرکاری ڈگری کالج کے احاطہ میں سروے نمبر 1253 میں تین ایکڑ اراضی مختص کی گئی ۔ جگتیال میں منڈل ترنگا پور موضع میں سروے نمبر 437 میں (6.20) ایکڑ اراضی مختص کی گئی ، حضور آباد میں ایس آر ایس پی کیمپ کے احاطہ میں سروے نمبر 1836-1828 میں تین ایکڑ اراضی ، پدا پلی میں موضع راگھواپورم میں سروے نمبر (1072) میں چار ایکڑ اراضی ، رام گنڈم میں ملکاپور موضع سروے نمبر 36-95 میں چار ایکڑ اراضی مختص کی گئی ۔ کریم نگر گرلس اقلیتی اقامتی اسکول ماناکنڈور اسمبلی حلقہ کے تماپور منڈل سروے نمبر 443-444 میں تین ایکڑ ( 38 ) گنٹے ، لڑکوں کیلئے 441-442 میں تین ایکڑ 26 گنٹے اراضی محتص کی گئی ۔ حکومت کی مختص کردہ اراضیات پر کوئی خاص اعتراضات نہیں بلکہ کریم نگر کے مختص کردہ اراضیات پر ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے کیونکہ یہ مدارس حلقہ اسمبلی حدود میں ہونا چاہئے تھا لیکن حقلہ اسمبلی ماناکنڈور میں رکھے جانے کی وجہ آئندہ مستقبل میں جو بھی پروگرام ہونگے سرکاری پروٹوکال میں دقت ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT