Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اُمور پر علم و اطلاع کے بغیر فیصلے، عمر جلیل پر ڈپٹی چیف منسٹر کی برہمی

اقلیتی اُمور پر علم و اطلاع کے بغیر فیصلے، عمر جلیل پر ڈپٹی چیف منسٹر کی برہمی

حج انتظامات میں مصروف ایس اے شکور کو وقف بورڈ کی زائد ذمہ داری پر سرزنش

حیدرآباد۔/19جولائی، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود سے متعلق اُمور سے لاعلم رکھنے اور مشاورت کے بغیر فیصلے کرنے پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل پر برہمی کا اظہار کیا۔ رباط کی قرعہ اندازی تقریب میں میڈیا اور مدعوئین کے روبرو ڈپٹی چیف منسٹر اچانک برہم ہوگئے اور سکریٹری اقلیتی بہبود سے کہا کہ وہ کس طرح ان سے مشاورت کے بغیر فیصلے کررہے ہیں۔ کئی فیصلوں کے بارے میں وہ لاعلم ہیں اور بعد میں انہیں ان کی اطلاع مل رہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کے عہدہ کی  زائد ذمہ داری پروفیسر ایس اے شکور کو دیئے جانے کی مخالفت کی اور کہا کہ حج سیزن کا آغاز ہوچکا ہے اور وہ اس ذمہ داری کو کس طرح نبھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے قبل کم از کم ان سے مشاورت کی جانی چاہیئے تھی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے جب وضاحت کی کہ عہدیداروں کی کمی کے سبب یہ فیصلہ کرنا پڑا تو ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ آپ خود یہ ذمہ داری اپنے پاس رکھ سکتے تھے، آپ نوجوان آئی اے ایس عہدیدار ہیں اور زائد ذمہ داری سنبھالنے میں کوئی دشواری نہیں ہوسکتی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کے اُمور میں ان سے مشاورت نہ کرنے کی شکایت کی اور کہا کہ کسی بھی معاملہ میں اہم فیصلہ سے قبل انہیں اس کی اطلاع دی جانی چاہیئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے کہا کہ وہ تنقیدوں سے حوصلہ شکن نہ ہوں بلکہ حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر تنقیدیں کی جارہی ہیں لیکن حکومت نے اپنی کارکردگی کو جاری رکھا اور چندر شیکھر راؤ کو ملک کے نمبر ون چیف منسٹر کا اعزاز حاصل ہوا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے یہ سروے کیا گیا تھا جس میں یہ اعزاز حاصل ہونا حکومت کی بہتر کارکردگی کا ثبوت ہے۔ برسر عام ڈپٹی چیف منسٹر کی اس برہمی پر میڈیا کے نمائندے اور وہاں موجود دیگر افراد حیرت میں پڑ گئے اور کئی ٹی وی کیمروں میں یہ مکالمہ قید ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT