Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بجٹ میں صرف 64 کروڑ کا اضافہ افسوسناک

اقلیتی بجٹ میں صرف 64 کروڑ کا اضافہ افسوسناک

اسکالرشپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیموں کی فنڈز میں کمی پر خواجہ فخرالدین کا اظہارِ تشویش
حیدرآباد۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین نے اقلیتی بجٹ میں صرف 64 کروڑ روپئے کے اضافہ کو ’’اقلیتوں سے مذاق‘‘ قرار دیا۔ اسکالرشپس اور فیس ای ایمبرسمنٹ اسکیموں کے فنڈز کو گھٹا دینے پر تشویش کا اظہار کیا۔ برہمنوں کیلئے 100 کروڑ کا بجٹ مختص کرتے ہوئے ائمہ اور موذنین کو نظرانداز کرنے کا تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کیا۔ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین نے کہا کہ بجٹ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو کافی اُمیدیں وابستہ تھیں تاہم چیف منسٹر کے سی آر نے اقلیتوں کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے انہیں مایوس کردیا ہے۔ ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے سال 2006-17ء کیلئے 1,30,415,87 کروڑ روپئے کا مجموعی بجٹ پیش کیا ہے جس میں اقلیتوں کیلئے صرف 1204 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ گزشتہ سال کی بہ نسبت اقلیتی بجٹ میں صرف 64 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسکالرشپس کیلئے طلبہ کی درخواستوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ ڈیمانڈ کے مطابق اسکالرشپس کے بجٹ میں اضافہ کرنے کیلئے بجائے جاریہ سال اس کے بجٹ میں 20 کروڑ روپئے کمی کردی گئی ہے۔ گزشتہ 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔ جاریہ سال اس کو گھٹا کر 80 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کیلئے گزشتہ سال 425 کروڑ روپئے کا بجٹ تھا۔ جاریہ سال اس کو گھٹاکر 223 کروڑ روپئے کردیا گیا۔ پہلی مرتبہ برہمن طبقہ کیلئے بجٹ میں 100 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے، جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی، اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ائمہ اور موذنین کونظرانداز کردیا ہے۔ گزشتہ دو سال سے ائمہ اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ دینے کا اعلان کیا جارہا ہے۔ اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی جارہی ہے۔ جاریہ سال وقف بورڈ کو 65 کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے یہی فنڈز سے ائمہ اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ کی بھی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اور چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے انتخابات کے دوران اقلیتوں کو ’’ہتھیلی میں جنت‘‘ دکھائی جارہی ہے، لیکن عمل کے معاملے میں انہیں نظرانداز کرتے ہوئے ان کے جذبات کو ٹھیس پہونچایا جارہا ہے۔ 70 اقلیتی ریسیڈنشیل اسکولس قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس کے لئے درکار اسٹاف کی خدمات کو کنٹراکٹ پر حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کے مختلف محکمہ جات میں بڑے پیمانے پر سرکاری تقررات کررہی ہے تاہم اقلیتی ریسیڈنشیل اسکولس میں سرکاری مستقل ملازمتیں مسلمانوں کو فراہم کرنے کے بجائے انہیں کنٹراکٹ پر تقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 12% مسلم تحفظات کا نہ ہی گورنر کے خطبہ میں تذکرہ کیا گیا اور نہ ہی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت 12% مسلم تحفظات کو فراموش کرتے ہوئے مسلمانوں سے ناانصافی کررہی ہے جس کی کانگریس پارٹی شدید مذمت کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT