Sunday , April 30 2017
Home / Top Stories / اقلیتی بجٹ میں مزید اضافہ کرنے سے اتفاق

اقلیتی بجٹ میں مزید اضافہ کرنے سے اتفاق

اردو اساتدہ کیلئے خصوصی ڈی ایس سی ، اندرون سال دو لاکھ بیڈروم مکانات کی تعمیر : چیف منسٹر

حیدرآباد /17 مارچ ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اقلیتی بجٹ میں مزید اضافہ کرنے کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ اردو ٹیچرس کے تقررات کیلئے خصوصی ڈی ایس سی انعقاد کرنے کے احکامات جاری کردئے گئے ۔ غیر مختص اوقافی جائیدداوں کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا باجی ریڈی گوردھن ریڈی کی قیادت میں تشکیل دی گئی ۔ ایوان کی کمیٹی جائزہ لے گی جاریہ سال کے آخر تک گریڈ حیدرآباد میں ایک لاکھ اور اضلاع میں ایک لاکھ جملہ 2 لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کئے جائیں گے ۔ تعمیر نہ کرنے کی صورت میں ٹی آر ایس عوام سے دوبارہ ووٹ طلب پیش کرے گی ۔ کمیونسٹ جماعتوں کے فرسودہ اصول دم توڑ رہی ہیں ۔ حکومت کی کارکردگی سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ وسط مدتی انتخابات کرانے کی تردید کی اور ساتھ ہی اضلاع کیک تعداد گھٹانے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات کے بعد مفت برقی سربراہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ آج اسمبلی میں بجٹ مباحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے پاس ویژن ہے ہر فیصلہ تلنگانہ کے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا جارہا ہے ۔ برقی بحران پر قابو پانے میں تلنگانہ حکومت کامیاب ہوگئی ہے ۔ دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے سال 2017-18 کا بجٹ کارآمد ثابت ہوگا ۔ دیہی علاقوں کے تمام چھوٹے چھوٹے پیشہ سے وابستہ افراد کو روزگار فراہم کرنے اور خود محتار بنانے کیلئے حکومت نے خصوصی توجہ دی ہے ۔ قائد مجلس اکبرالدین اویسی کے اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کر رہی ہے ۔ اقلیتی بجٹ میں مزید اضافہ کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ انہوں نے وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کو اقلیتی بجٹ میں مزید اضافہ کرنے کی کی ہدایت دی اور کہا کہ اردو ٹیچرس کے تقررات کیلئے خصوصی ڈی ایس سی کا انعقاد کرنے کیلئے احکامات جاری کرچکے ہیں ۔ محکمہ تعلیم اسکا جائزہ لے رہی ہے ۔ غیر مختص اوقافی جائیدادوں کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کیلئے ایوان کی ایک اور نئی کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پہلے ہی ٹی آر ایس رکن اسمبلی باجی ریڈی گوردھن ریڈی کی قیادت میں تشکیل دی گئی کمیٹی موجود ہے ۔ وہ اس کا جائزہ لے گی ۔ اقلیتی طلبہ کے اسکالرشپس اور فیس ریمبرسمنٹ وغیرہ کے بقایاجات جاریہ ماہ کی آخر تک جاری کردئے جائیں گے ۔ نئے تعلیمی سال سے ہر ماہ جاری کرنے پر حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ چیف منسٹر نے قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی اور بی جے پی کے رکن اسمبلی پی کشن ریڈی کی جانب سے بجٹ پر کئے گئے تنقید اور اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس نے الیکشن بجٹ پیش نہیں کیا اور نہ ہی ٹی آر ایس وسط مدتی انتخابات کرانے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے ۔ جبکہ تمام سروے ٹی آر ایس کے حق میں ہے ۔ اس مرتبہ بجٹ میں دیہی معیشت کو مستحکم کرنے اور مختلف پیشووں جس کو کانگریس اور تلگودیشم حکومت کی جانب سے نظر انداز کردیا گیا تھا ۔ اس کو اہمیت دیتے ہوئے دیہی علاقوں میں معاشی انقلاب برپا کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ وہ پسماندہ طبقات کی ترقی کیلئے ایک کارپوریشن تشکیل دیتے ہوئے 1000 کروڑ روپئے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ تعجب کی بات ہے قائد اپوزیشن بہت زیادہ پسماندہ طبقات سے واقف نہیں ہے ۔ اس کی بی سی کمیشن نشاندہی کرے گی ۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ترقی کے ویژن سے اپوزیشن ناواقف ہے ۔ انہیں معلومات کا فقدان ہے ۔ کمیونسٹ جماعت وہی قدیم فرسودہ اصول پر کاربند ہے ۔ جس کی وجہ سے عوام انہیں نظر انداز کر رہے ہیں ۔ بھیڑ بکریوں کی خریدی کی اسکیم میں مرکز کا ایک روپیہ بھی نہیں ہے ۔ سارا فنڈ ریاست کا ہے ۔ قرض حاصل کرنا کوئی جرم نہیں ہے ۔ ایٹالہ راجندر نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے برقی بحران سے تلنگانہ کو باہر نکال لیا مستقبل میں ریاست تلنگانہ فاضل برقی پیدا کرنے والی ریاستوں میں شامل ہوجائے گی ۔ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات کے بعد مفت برقی سربراہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔ اپوزیشن جماعت اچھے کاموں کی ستائش کرنے کے بجائے تنقید برائے تنقید کرتے ہوئے حکومت کے خلاف عوام میں گارہ کن پروپگنڈہ کر رہی ہیں ۔ جاریہ سال تلنگانہ حکومت حاصل کردہ قرض میں 20 ہزار کروڑ روپئے کا قرض لوٹا رہی ہے ۔ قائد اپوزیشن جاناریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ہر سال بجٹ کے اعداد و شمار میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ تاہم منظورہ بجٹ مکمل جاری نہیں کیا جارہا ہے ۔ خرچ کریں بغیر فاضل بجٹ ہونے کا دعوی کیا جارہا ہے ۔ ریاست پر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے ۔ اس پر ہم نے اپنے شبہات کا اظہار کیا ہے ۔ اس کی وضاحت کرنے کے بجائے اپوزیشن پر جو بھی الزامات عائد کئے جارہے ہیں وہ درست نہیں ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT