Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود بجٹ کا افشاء معاملہ، موضوع بحث

اقلیتی بہبود بجٹ کا افشاء معاملہ، موضوع بحث

روزنامہ سیاست کی رپورٹ ، سیکریٹری اقلیتی بہبود نے توثیق کی
حیدرآباد۔/3نومبر،(سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کی مقننہ کمیٹی کے اجلاس میں آج روز نامہ ’سیاست ‘ کی جانب سے اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی کے افشاء کا معاملہ موضوع بحث رہا۔ بعض ارکان نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے ’سیاست‘ میں بجٹ کی اجرائی کے بارے میں گزشتہ دنوں شائع شدہ رپورٹ کی تصدیق حاصل کرنی چاہی جس پر عہدیداروں نے بتایا کہ جو بھی رپورٹ شائع ہوئی ہے وہ حقائق پر مبنی ہے اور جاریہ مالیاتی سال بجٹ کی اجرائی کی رفتار انتہائی سُست ہے۔ واضح رہے کہ روز نامہ ’سیاست‘ نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی اور خرچ کے تازہ ترین اعداد و شمار پیش کئے تھے جس کے تحت 1200 کروڑ کے منجملہ صرف 270کروڑ 95 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے جبکہ حکومت نے 635کروڑ روپئے کی اجرائی کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن بجٹ جاری نہیں ہوا۔ بجٹ کے تیسرے سہ ماہی کے آغاز کے باوجود سُست رفتار اجرائی نے کئی اسکیمات کو ٹھپ کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقننہ کمیٹی میں ارکان نے ’سیاست‘ کی رپورٹ کی بنیاد پر سکریٹری اقلیتی بہبود سے وضاحت طلب کی۔ انہوں نے بتایا کہ جو بھی رپورٹ ’سیاست‘ نے شائع کی وہ سرکاری اعداد و شمار کے عین مطابق ہے۔ 249 کروڑ کے بلز ٹریژری میں زیر التواء ہیں۔ ارکان نے بجٹ کی سُست رفتار اجرائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مقننہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 24 نومبر کو منعقد کیا جائے جس میں سکریٹری فینانس کو طلب کرتے ہوئے وجوہات معلوم کی جائیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اگر سکریٹری فینانس بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں کارروائی نہیں کریں گے تو مقننہ کمیٹی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے بجٹ کی اجرائی کیلئے نمائندگی کرے گی۔ اقلیتی عہدیداروں نے بھی کہا کہ بجٹ کی عدم اجرائی سے کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مقننہ کمیٹی اقلیتی بہبود کا بجٹ حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو پائے گی۔ اگرچہ کمیٹی کو حکومت سے سفارش کرنے کے اختیارات حاصل ہیں اور اس میں برسراقتدار اور اس کی حلیف جماعت کے ارکان شامل ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں کمیٹی 24نومبر کے اجلاس میں محکمہ فینانس کے عہدیداروں پر کس حد تک اثر انداز ہوپائے گی۔ اس اجلاس میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کو بھی مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ مختلف اوقافی جائیدادوں کے معاوضہ کے طور پر 380کروڑ روپئے وصول طلب ہیں۔

TOPPOPULARRECENT