Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود میں نیا تنازعہ، ڈائرکٹر کے اختیارات میں کٹوتی؟

اقلیتی بہبود میں نیا تنازعہ، ڈائرکٹر کے اختیارات میں کٹوتی؟

حیدرآباد۔/13 فبروری، ( سیاست نیوز) حکومت کا کوئی بھی محکمہ مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت چلتا ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود میں صرف اعلیٰ عہدیداروں کی مرضی چلتی ہے اور انہیں قواعد و ضوابط کی کوئی پرواہ نہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت کئی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات روبہ عمل لائی جاتی ہیں جس کی نگرانی کیلئے 1993میں علحدہ اقلیتی کمشنریٹ قائم کیا گیا جس کی ذمہ داری تمام اقلیتی اداروں کی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لینا اور ضرورت کے مطابق بجٹ کی اجرائی ہے۔ بعد میں کمشنریٹ کو ڈائرکٹوریٹ میں تبدیل کردیا گیا لیکن فرائض اور ذمہ داریاں وہی برقرار رکھی گئیں۔ لیکن افسوس کہ اقلیتی بہبود کے ڈائرکٹر کے اختیارات کو کم کرنے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود نے باقاعدہ میمو جاری کردیا۔ میمو کی اجرائی تمام اقلیتی اداروں کیلئے حیرت کا باعث رہی کیونکہ یہ احکامات 1993 اور 1996 کے سرکاری احکامات کی صریح خلاف ورزی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ایم جے اکبر نے مختلف اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کیلئے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے اقلیتی اداروں سے وقتاً فوقتاً بجٹ کے خرچ کے بارے میں رپورٹ طلب کی جو ان کے فرائض میں شامل ہیں۔ انہوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن میں بجٹ کے خرچ اور بعض دیگر فیصلوں کے بارے میں وضاحت طلب کی جس سے مبینہ طور پر ناراض ہوکر سکریٹری اقلیتی بہبود نے 18جنوری کو میمو جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن خود مختار ادارہ ہے اور وہ آزادانہ طور پر خدمات انجام دے گا۔ اس مکتوب کے ذریعہ سکریٹری نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کے معاملات میں مداخلت سے روک دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  سکریٹری اقلیتی بہبود نے 10فبروری 2013 کو میمو نمبر 7402جاری کرتے ہوئے تمام اقلیتی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس کی رپورٹ اور فائیل کمشنر اقلیتی بہبود کے ذریعہ روانہ کریں اور اس کی خلاف ورزی کا سختی سے نوٹ لیا جائے گا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جس سکریٹری نے 2013 میں تمام اقلیتی اداروں کو جو ہدایت دی تھی اس کے برخلاف اچانک 18جنوری کو ایک اور حکم جاری کردیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کے اس مکتوب نے محکمہ میں نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے اختیارات کو کم کرنے اور اقلیتی اداروں میں ان کی مداخلت روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس مکتوب سے سکریٹری اور ڈائرکٹر کے درمیان عملاً دوریاں پیدا ہوگئیں اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے 9 فبروری کو 7 صفحات پر مشتمل جوابی مکتوب سکریٹری کو روانہ کیا جس میں 1993 سے آج تک کے مختلف سرکاری احکامات اور سکریٹری کی جانب سے سابق میں جاری کئے گئے احکامات کا حوالہ دیا گیا۔ ڈائرکٹر کا مکتوب اور سکریٹری کی جانب سے سابق میں جاری کردہ احکامات کی نقل روز نامہ ’سیاست‘ کے پاس موجود ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے اس مکتوب میں واضح کیا کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی ذمہ داری تمام اقلیتی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنا ہے اور وہ کسی بھی اسکیم یا بجٹ کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ مکتوب میں واضح کیا گیا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی، سی ای ڈی ایم، وقف بورڈ، کرسچین فینانس کارپوریشن، دائرہ المعارف، سروے کمشنر وقف جیسے تمام ادارے ڈائرکٹوریٹ کے تحت آتے ہیں۔ سکریٹری کی جانب سے ڈائرکٹر کے اختیارات کو کم کرنے اور انہیں حاشیہ پر رکھنے کی ان کوششوں پر اقلیتی اداروں کے عہدیدار حیرت میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں بعض من مانی فیصلوں اور بجٹ کے استعمال میں قواعد کی خلاف ورزی جیسے معاملات کے بارے میں وضاحت طلب کرنے پر یہ کارروائی کی گئی۔ کارپوریشن میں موجود افراد سکریٹری اقلیتی بہبود سے قربت رکھتے ہیں اور سکریٹری ان کے خلاف کوئی شکایت سننا پسند نہیں کرتے۔ حال ہی میں کارپوریشن کے جنرل منیجر کے ریٹائرمنٹ سے عین قبل بورڈ آف ڈائرکٹرس کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے متنازعہ عہدیدار کے دوبارہ تقرر کی تجویز کی مخالفت کی تھی۔ سکریٹری سے قربت رکھنے والے اس ریٹائرڈ عہدیدار کو خفیہ طریقہ سے دوبارہ ملازمت دی گئی ہے جو قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے قواعد کا حوالہ دیا اور مذکورہ شخص کے خلاف سی بی سی آئی ڈی تحقیقات اور تاریخ پیدائش میں اُلٹ پھیر سے متعلق ہائی کورٹ میں زیر دوراں مقدمہ کا حوالہ دیا تھا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سکریٹری کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اپنے پسندیدہ افراد کی من مانی جاری رکھنے کیلئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو کارپوریشن کے اُمور میں مداخلت سے روک دیا۔ انہوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ ان کا مکتوب نہ صرف سرکاری جی او بلکہ سابق میں ان کے ہی جاری کردہ میمو کی خلاف ورزی ہے۔ سکریٹری کے احکامات کے جواب میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کا مکتوب نہ صرف اقلیتی بہبود بلکہ چیف منسٹر کے دفتر تک ہلچل پیدا کرچکا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT