Saturday , July 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کیلئے اضافی بجٹ کی منظوری کا فیصلہ

اقلیتی بہبود کیلئے اضافی بجٹ کی منظوری کا فیصلہ

اقامتی اسکولس کیلئے سب سے زائد رقم مختص کی جاسکتی ہے، محکمہ فینانس کی جانب سے بجٹ کوقطعیت
حیدرآباد ۔ 8 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مالیاتی سال 2017-18 کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے اضافی منظوری کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ جاریہ مالیاتی سال کے مقابلہ 200 کروڑ سے زائد کا اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے حکومت کو 1634 کروڑ روپئے کی بجٹ تجاویز روانہ کی ہے۔ محکمہ فینانس کی جانب سے بجٹ کو قطعیت دی جاچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ہر محکمہ کو اس کے الاٹمنٹ کے بارے میں اطلاع دیدی گئی ہے۔ وزیر فینانس ای راجندر پیر 13 مارچ کو ریاستی بجٹ پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ مالیاتی سال 2016-17 ء میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 1204 کروڑ تھا اور اس میں بعض نئی اسکیمات کی شمولیت کے ساتھ 1634 کروڑ کی تجاویز پیش کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے تقریباً 1450 کروڑ کے بجٹ کو منظوری دیدی ہے۔ جاریہ سال کی طرح آئندہ مالیاتی سال بھی فلاحی اسکیمات پر زائد رقم خرچ کی جائے گی ۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کی فلاحی اسکیمات کیلئے زائد رقومات مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اقلیتوں کیلئے قائم کئے جانے والے اقامتی اسکولس کیلئے بجٹ میں سب سے زائد رقم مختص کی جاسکتی ہے۔ جاریہ سال 350 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جبکہ آئندہ سال کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود نے 586 کروڑ کی سفارش کی ہے۔ دیگر اہم اسکیمات جن کیلئے زائد رقم کی تجویز پیش کی گئی، ان میں اسکالرشپ کیلئے 60 کروڑ فیس باز ادائیگی 225 کروڑ ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم 150 کروڑ  تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت ائمہ اور مؤذنین کو اعزازیہ کیلئے 50 کروڑ ، پری میٹرک اسکالرشپ 30 کروڑ ، شادی مبارک اسکیم 150 کروڑ ، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم 40 کروڑ ، دعوت افطار و کرسمس تقاریب 30 کروڑ ، ٹی پرائم 100 کر وڑ اور تلنگانہ ایس ای زیڈ 100 کروڑ شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے محکمہ فینانس کو ہدایت دی ہے کہ اقلیتی بجٹ میں جاریہ سال کے مقابلہ اضافہ کیا جائے۔ اسی دوران جاریہ سال کے مختص کردہ 1204 کروڑ کے منجملہ صرف 550 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ اقلیتی بہبود کے ذرائع نے بتایا کہ محکمہ فینانس نے 964 کروڑ کی اجرائی سے متعلق احکامات جاری کئے ہیں جبکہ زیادہ تر رقم صرف کاغذی منظوری کے تحت ہے۔ 171 کروڑ روپئے کی لمحہ آخر میں اجرائی کا امکان ہے جس سے جاریہ سال اقلیتی بہبود کی اسکیمات کے تحت 720 کروڑ روپئے کا خرچ مکمل ہوجائے گا ۔ اسکالرشپ کے تحت 47 کروڑ کے منجملہ 35 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جبکہ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے 30 کروڑ میں 15 کروڑ روپئے طلبہ کو جاری کئے گئے ہیں۔ بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب شادی مبارک اور دیگر اسکیمات کے درخواست گزار منظوری سے محروم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شادی مبارک اسکیم کے تحت گزشتہ تین ماہ سے ہزاروں درخواستیں زیر التواء ہیں۔ اقلیتی بہبود کا قلمدان چونکہ چیف منسٹر کے پاس ہے ، لہذا عہدیداروں کو بجٹ کی اجرائی اور اسکیمات کے سلسلہ میں موثر نمائندگی میں دشواری پیش آرہی ہے۔ کسی بھی اسکیم یا نئی تجویز کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے منظوری کے حصول میں وقت درکار ہے، لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ چیف منسٹر اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے کسی وزیر کے حوالے کردیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT