Friday , March 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ میں اضافہ کے بجائے کمی

اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ میں اضافہ کے بجائے کمی

درج فہرست اقوام ، قبائیل اور پسماندہ طبقات کیلئے خاطر خواہ فنڈس مختص کئے گئے
حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مالیاتی سال 2017-18 کے بجٹ میں درج فہرست اقوام، قبائل اور پسماندہ طبقات کے بجٹ میں جاریہ سال کے مقابلہ خاطر خواہ اضافہ کیا ہے جبکہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کے بجائے 56کروڑ روپئے کی کمی کردی گئی۔ سال 2016-17 میں اقلیتی بہبود کیلئے 1204 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے بعد میں 101 کروڑ روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے بجٹ کو 1305کروڑ کیا گیا لیکن وزیر فینانس ای راجندر نے کل اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کیلئے 1249کروڑ کا اعلان کیا۔ اس طرح جاریہ سال کے مقابلہ اضافہ تو درکنار مزید کمی کردی گئی ہے۔ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کی بجٹ سفارشات کو نظرانداز کردیا جو 1634کروڑ کی داخل کی گئی تھیں۔ بجٹ کی خاص بات یہ رہی کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں اقلیتوں کی حصہ داری میں اضافہ کیلئے 2 منفرد اسکیمات کی تجویز پیش کی تھی۔ ٹی پرائم اور T-SEZ نامی اسکیمات کے تحت فی کس 100 کروڑ روپئے کی تجویز محکمہ اقلیتی بہبود نے حکومت کو پیش کی تھی لیکن حکومت نے دونوں کو ایک اسکیم کے تحت شامل کرتے ہوئے صرف 25کروڑ روپئے الاٹ کئے ہیں۔ مذکورہ اسکیم کے تحت زائد بجٹ مختص کرتے ہوئے صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں اقلیتوں کی مدد کی جاسکتی تھی۔ برسراقتدار پارٹی سے وابستہ قائدین 1204 کروڑ روپئے کے حساب سے بجٹ میں اضافہ کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ’سیاست‘ کے پاس محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے داخل کی گئی بجٹ تجاویز کی تفصیلات موجود ہیں۔ حکومت نے انتظامی بجٹ کے تحت 23کروڑ 34 لاکھ روپئے مختص کئے جبکہ اسکیمات پر اخراجات کیلئے1226کروڑ روپئے الاٹ کئے گئے ہیں۔ اسکیمات کے سلسلہ میں جو بجٹ مختص کیا گیا اس میں اسکالر شپ کیلئے 40کروڑ، فیس بازادائیگی 180کروڑ مختص کئے گئے جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود نے دونوں اسکیمات کیلئے علی الترتیب 60کروڑ اور 225کروڑ روپئے کی سفارش کی تھی۔ 2016-17 میں ان اسکیمات کیلئے 50کروڑ اور 238کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔ بینکوں سے مربوط قرض فراہمی کی اسکیم کیلئے 150کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ ائمہ مساجد اور مؤذنین کیلئے ماہانہ اعزازیہ کیلئے 50کروڑ، پری میٹرک اسکالر شپ 25کروڑ، شادی مبارک 150 کروڑ، اوورسیز اسکالر شپ اسکیم 40کروڑ، افطار و کرسمس 30کروڑ، اقلیتی اقامتی اسکولس 425کروڑ، مکہ مسجد و شاہی مسجد50کروڑ، سکھ بھون کی تعمیر 5 کروڑ، اردو گھر شادی خانوں کی تعمیر 23کروڑ، تلنگانہ حج کمیٹی 3 کروڑ، تلنگانہ اسٹڈی سرکل 10کروڑ اور سروے کمشنر وقف 50 لاکھ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کیلئے 12کروڑ، کرسچین فینانس کارپوریشن7 کروڑ، مرکزی اسپانسرڈ اسکیمات 29کروڑ 75لاکھ، اقلیتوں کی سماجی و معاشی صورتحال کا جائزہ و پروگراموں کیلئے 6 کروڑ 76 لاکھ، دائرۃالمعارف 4کروڑ 50لاکھ اور اردو اکیڈیمی ایک کروڑ 50لاکھ شامل ہیں۔ انتظامی بجٹ کے تحت اقلیتی کمیشن کیلئے 36لاکھ 94 ہزار، مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہیں 68 لاکھ 59 ہزار اور وقف ٹریبونل کیلئے 13 لاکھ 31 ہزار مختص کئے گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT