Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کی اسکیمات میں دھاندلیاں اور بے قاعدگیاں

اقلیتی بہبود کی اسکیمات میں دھاندلیاں اور بے قاعدگیاں

عہدیداروں اور بروکرس کے خلاف سخت کارروائی ممکن ، پولیس کی خفیہ ٹیم کی تحقیقات و نقل و حرکت پرنظر
حیدرآباد۔/5نومبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کی اسکیمات میں بے قاعدگی اور دھاندلیوں کے مرتکب عہدیداروں اور بروکرس کی خیر نہیں کیونکہ حکومت نے ان سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے محکمہ پولیس کی خفیہ ٹیم تشکیل دی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی بہبود کی مختلف اسکیمات اور خاص طور پر ’شادی مبارک ‘ اور بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی اسکیم میں بے قاعدگیوں اور درمیانی افراد کے رول کی شکایات کے بعد اس مسئلہ کو ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں سے رجوع کیا تھا۔ چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کے بارے میں اے کے خاں کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری ہے تاکہ آئندہ مالیاتی سال بجٹ کی تیاری اور نئی اسکیمات کے آغاز میں حکومت کو مدد ملے۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو نے اسکیمات کے بارے میں مختلف گوشوں سے معلومات حاصل کی جس پر انہیں شہر اور اضلاع میں عہدیداروں اور درمیانی افراد کی ملی بھگت کے بارے میں شکایات موصول ہوئیں۔ ابتدائی سطح کی تحقیقات میں شکایات کے درست ثابت ہونے کے بعد پولیس کے ذریعہ اسکیمات پر عمل آوری کی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلہ میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹیم  تمام اقلیتی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھے گی اور نہ صرف اقلیتی اداروں کے عہدیدار اور ملازمین بلکہ درمیانی افراد کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے گی ۔بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلہ میں’ شادی مبارک‘ اور بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی اسکیم پر عمل آوری کی جانچ کی جائے گی۔ پولیس عہدیداروں کی ٹیم نے حیدرآباد اور رنگاریڈی کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر کا اچانک معائنہ کرتے ہوئے ریکارڈس کا جائزہ لیا۔ پولیس عہدیداروں نے شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی جانچ کی اور منظورہ درخواستوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ کے عہدیداروں کے علاوہ پولیس عہدیداروں کی ایک ٹیم درخواست گذاروں کی اہلیت کے بارے میں معلومات حاصل کرے گی۔ اس کے علاوہ منظورہ اور رقم حاصل کرنے والے افراد کا بھی پتہ چلایا جائے گا کہ آیا وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں یا پھر درمیانی افراد نے سرکاری امداد کا بیجا استعمال کیا ہے۔ پولیس عہدیداروں کی اس اچانک کارروائی سے اقلیتی بہبود کے عہدیدار حیرت زدہ رہ گئے اور یہ کارروائی اس قدر خفیہ رکھی گئی کہ محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس سے لاعلم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس عہدیداروں کی ٹیم نے اس سلسلہ میں بعض اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کی اور اسکیمات پر عمل آوری کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ پولیس عہدیداروں کو ابتدائی جانچ میں بعض بے قاعدگیوں کا علم ہوا ہے اور وہ اس سلسلہ میں ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں کو رپورٹ پیش کریں گے۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی میں شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری میں کئی بے قاعدگیوں کی شکایات ملی ہیں اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے عہدیداروں کے اجلاس میں برہمی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے منظور کی گئی درخواستوں میں 10فیصد درخواستوں کی دوبارہ جانچ کی ہدایت دی تھی۔ چونکہ محکمہ کے ملازمین کی جانب سے جانچ کی صورت میں بے قاعدگیوں کو پس پشت ڈالنے کا اندیشہ ہے لہذا پولیس عہدیداروں پر مشتمل ویجلینس ٹیم کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ اقلیتی بہبود کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اسکیمات میں دھاندلیوں کا پتہ چلانے پولیس کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی کے بارے میں بھی اعلیٰ عہدیداروں کو کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کے بیجا استعمال کی شکایات کا سخت نوٹ لیتے ہوئے خاطیوں کے خلاف کارروائی اور اسکیمات میں شفافیت پیدا کرنے کی ذمہ داری پولیس کے اعلیٰ عہدیدار اے کے خاں کو دی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ پولیس کی نگرانی کے باعث نہ صرف بے قاعدگیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ درمیانی افراد کا رول ختم ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT