Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سے چیف منسٹر کا عدم اطمینان

اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سے چیف منسٹر کا عدم اطمینان

محکمہ میں عنقریب تقررات ، چیف منسٹر کے سی آر کا ادعا
حیدرآباد۔/28جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ اقلیتی بہبود کیلئے ٹی آر ایس حکومت نے جن اسکیمات کا آغاز کیا اس کے فوائد مستحقین تک پہنچنے میں تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں انہوں نے جب محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا تو انہیں مایوسی ہوئی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ’ شادی مبارک‘ اور دیگر اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے حکومت محکمہ میں اسٹاف کی کمی کو دور کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی بہبود کیلئے 300افراد پر مشتمل اسٹاف کی منظوری دی گئی ہے اور بہت جلد تقررات عمل میں آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹاف کی کمی اسکیمات پر عمل آوری میں اہم رکاوٹ تھی۔ وہ چاہتے ہیں کہ اقلیتی بہبودکی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ آنے والے دنوں میں حکومت کی نئی اسکیمات کے فوائد مستحق اقلیتی خاندانوں تک پہنچ سکیں۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے1100کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے اور وہ اس کے مکمل خرچ کے خواہاں ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے اقلیتی طلباء کیلئے 30اور طالبات کیلئے 30 اقامتی مدارس کا آغاز ہوگا جس میں ایس سی، ایس ٹی طبقات کی طرح طلباء کو سہولتیں حاصل رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتی بہبود کیلئے سنجیدہ ہے اور سابق میں کسی حکومت نے اس قدر اقدامات نہیں کئے تھے۔اخباری نمائندوں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری میں سُست رفتاری کے سبب عوام کو دشواری پیش آرہی ہے اور حکومت کی نیک نامی متاثر ہورہی ہے۔ چیف منسٹر نے اس کا اعتراف کیا اور کہا کہ اسٹاف کی کمی دور کرتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں کو اقلیتی بہبود کی اسکیمات کا نگرانکار مقرر کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے بلدی انتخابات کے بعد کارروائی کا تیقن دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے قیام کے بعد سنبھلنے میں کم از کم دو سال کا وقت لگتا ہے اور مسلسل انتخابات کے سبب حکومت اس جانب توجہ کرنے سے قاصر رہی۔

TOPPOPULARRECENT