Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے اداروں پر اے کے خان کی کڑی نظر

اقلیتی بہبود کے اداروں پر اے کے خان کی کڑی نظر

اقلیتوں میں اچھی امید، بدعنوانیوں کے خلاف کارروائی پر زور، عوام کی جانب سے خیرمقدم

حیدرآباد۔/12مارچ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود پر نگرانکار عہدیدار کی حیثیت سے ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں کو مقرر کئے جانے کے بعد سے اقلیتوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ وہ محکمہ کے سدھار اور اسکیمات سے بے قاعدگیوں کو دور کرتے ہوئے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچانے میں اہم رول ادا کریں گے۔ اقلیتوں میں اے کے خاں کو دی گئی اس ذمہ داری کا ہر سطح پر خیرمقدم کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ سینئر اور انتہائی تجربہ کار پولیس عہدیدار ہونے کے سبب اے کے خاں محکمہ کے اداروں میں بے قاعدگیوں اور من مانی فیصلوں پر نہ صرف لگام لگائیں گے بلکہ خاطیوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ محکمہ اقلیتی بہبود ان عناصر سے پاک ہوجائے گا جن کی سرگرمیوں نے محکمہ کی ساکھ کو متاثر کردیا ہے اور وہ اعلیٰ عہدیداروں کی قربت اور انہیں فراہم کی جارہی خدمات کی آڑ میں بے لگام ہر ادارہ کے اُمور میں مداخلت کررہے ہیں۔ اے کے خاں نے بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی ہے اور خاص طور پر جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس پر ان کی گہری نظر ہے۔ جس طرح جلال الدین اکبر کے تبادلہ کا ماحول پیدا کیا گیا ان حالات اور وجوہات پر بھی اے کے خاں کی نظر ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انہیں یہ ذمہ داری دیتے ہوئے مکمل اختیارات کے استعمال کا مشورہ دیا تاکہ محکمہ غیرکارکردگی کے دور سے نکل کر عوامی خدمت کے ادارہ میں تبدیل ہوسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے کے خاں نے اقلیتی بہبود کی سرگرمیوں کا عبوری جائزہ لیتے ہوئے چیف منسٹر کو حقیقی صورتحال سے واقف کردیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن میں بعض ایسے فیصلے کئے گئے جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان فیصلوں کے ذریعہ نہ صرف سرکاری خزانہ کا نقصان ہوا بلکہ اقرباء پروری کی مثال قائم ہوئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عبدالقیوم خاں گزشتہ تین ماہ میں اقلیتی بہبود کے تمام اہم فیصلوں سے متعلق فائیلوں کا جائزہ لیں تاکہ حقائق منظر عام پر آسکیں۔ عبدالقیوم خاں کو دی گئی ذمہ داری نے محکمہ میں موجود بدعنوان عناصر کی نیند حرام کردی ہے اور وہ اس بات کے کوشاں ہیں کہ کسی طرح سکریٹری کے ذریعہ اے کے خاں سے قربت پیدا کی جاسکے۔اقلیتی بہبود میں دیانتدار عہدیداروں کے خلاف وقفہ وقفہ سے جاری سرگرمیوں نے اسکیمات کی رفتار کو سُست کردیا ہے۔ عہدیداروں میں تال میل کی کمی کا فائدہ اٹھاکر ملازمین اور درمیانی افراد کی ملی بھگت سے اسکیمات میں کرپشن کی شکایات ملی ہیں۔ سابق میں بھی دیانتدار عہدیداروں کے ساتھ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ میں اسی طرح کا سلوک کیا گیا جس طرح جلال الدین اکبر کے ساتھ روا رکھا گیا۔ اقلیتی بہبود کے سکریٹری کی حیثیت سے شفیق الزماں، محمد علی رفعت اور چھایہ رتن جیسے فرض شناس اور اصول پسند عہدیدار فرائض انجام دے چکے ہیں لیکن انہیں بدعنوانیوں اور خاص طور پر وقف بورڈ کے اُمور میں متولیوں کے خلاف کارروائی کے آغاز پر ان کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔ وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے بھی فرض شناس عہدیداروں کو طویل عرصہ تک برقرار نہیں رکھا گیا۔اقلیتی فینانس کارپوریشن میں گزشتہ سال اسوقت کے منیجنگ ڈائرکٹر نے ایک عہدیدار کی بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جس پر انہیں عہدہ سے سبکدوش کردیا گیا۔ الغرض اقلیتی بہبود کے اداروں میں اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی میں باقاعدہ ایک مافیا سرگرم ہے جو دیانتدار عہدیداروں کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلوں کیلئے راضی نہ ہونے پر تبادلہ کرانے میں مہارت رکھتا ہے۔ ایسے عناصر کو سیاسی قائدین اور اعلیٰ عہدیداروں کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ اے کے خاں کو اقلیتی بہبود کی ذمہ داری دیئے جانے سے امید کی جاسکتی ہے کہ مکمل نہ سہی اقلیتی بہبود میں کچھ تو سدھار آئے گا۔ حکومت نے انہیں سکریٹری سے زائد اختیارات دیئے ہیں اور وہ محکمہ سے کوئی بھی فائیل طلب کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ امید ہے کہ عبدالقیوم خاں مسلمانوں کی توقعات پر پورے اُتریں گے۔

TOPPOPULARRECENT