Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے بجٹ میں 56 کروڑ کی تخفیف

اقلیتی بہبود کے بجٹ میں 56 کروڑ کی تخفیف

متعلقہ محکمہ کی سفارشات نظر انداز ، حکومت کے قول و فعل میں تضاد
حیدرآباد ۔ 13۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلہ 56 کروڑ روپئے کی کمی کی گئی ہے اور حکومت نے بجٹ میں اضافہ سے متعلق محکمہ اقلیتی بہبود کی سفارشات کو نظر انداز کردیا ۔ وزیر فینانس ای راجندر نے اسمبلی میں مالیاتی سال 2017-18 ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کیلئے 1249 کروڑ روپئے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ مالیاتی سال 2016-17 ء میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 1204 کروڑ مختص کیا گیا تھا ، بعد میں اس میں اضافہ کرتے ہوئے 1305 کروڑ روپئے کیا گیا۔ اگر 1204 کے حساب سے دیکھیں تو بجٹ میں 35 کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ تاہم حکومت نے 1204 میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 1305 کروڑ روپئے کیا تھا۔ اقلیتوں کو امید تھی کہ حکومت بجٹ میں نئی اسکیمات کے علاوہ رقم کا بھی اضافہ کرے گی لیکن مجموعی طور پر بجٹ میں اضافہ کے بجائے الٹا کمی کردی گئی ۔ حکومت نے انتظامی بجٹ کے تحت 23 کروڑ 34 لاکھ روپئے مختص کئے ہیں جبکہ اسکیمات پر اخراجات کیلئے 1226 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ وزیر فینانس نے اسکیمات کے سلسلہ میں جو بجٹ مختص کیا ہے ، اس میں اسکالرشپ کیلئے 40 کروڑ ، فیس باز ادائیگی کیلئے 180 کروڑ ، بینکوں سے مربوط قرض اسکیمات کیلئے 150 کروڑ ، تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کیلئے 50 کروڑ ، پری میٹرک اسکالرشپ کیلئے 25 کروڑ ، شادی مبارک 150 کروڑ، اوورسیز اسٹڈی اسکالرشپ اسکیم 40 کروڑ ، افطار و کرسمس 30 کروڑ ، اقلیتی اقامتی اسکولس 425 کروڑ ، مکہ مسجد و شاہی مسجد کی تعمیر و مرمت 50 کروڑ روپئے ۔ سکھ بھون کی تعمیر 5 کروڑ اردو گھر شادی خانہ کی تعمیر 23 کروڑ ، سروے کمشنر وقف 50 لاکھ ، تلنگانہ حج کمیٹی گرانٹ ان ایڈ 3 کروڑ ، ٹی پرائم اور ٹی SEZ کیلئے 25 کروڑ ، تلنگانہ اسٹڈی سرکل کیلئے اقلیتی طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کیلئے 10 کروڑ روپئے شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کیلئے 12 کروڑ ، تلنگانہ کرسچین فینانس کارپوریشن 7 کروڑ ، مرکزی اسپانسرڈ اسکیمات کیلئے گرانٹ ان ایڈ 29 کروڑ 75 لاکھ ، اقلیتوں کی سماجی اور معاشی صورتحال کا جائزہ اور پروگراموں کیلئے 6 کروڑ 76 لاکھ ، دائرۃ المعارف کی گرانٹ ان ایڈ 4 کروڑ 50 لاکھ اور اردو اکیڈیمی کی گرانٹ ان ایڈ ایک کروڑ 50 لاکھ مختص کئے گئے۔ انتظامی بجٹ کے تحت اقلیتی کمیشن کیلئے 36 لاکھ 94 ہزار مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کیلئے 68 لاکھ 59 ہزار اور وقف ٹریبونل کیلئے 13 لاکھ 31 ہزار مختص کئے گئے ۔ واضح رہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے مالیاتی سال 2017-18 ء کیلئے 1634 کروڑ کی بجٹ تجاویز روانہ کی تھیں۔ اقلیتوں کو صنعتی اداروں کے قیام میں مدد کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود نے ٹی پرائم اور ٹی ایس ای زیڈ اسکیمات کیلئے فی کس 100 کروڑ روپئے کی تجویز پیش کی تھی لیکن حکومت نے ان دونوں اسکیمات کیلئے معمولی رقم الاٹ کی ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولس کیلئے 586 کروڑ کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن حکومت نے 425 کروڑ روپئے مختص کئے ۔

TOPPOPULARRECENT