Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے تساہل اور لاپرواہی پر شدید برہمی

اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے تساہل اور لاپرواہی پر شدید برہمی

کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریری ملازمین کو تنخواہوں کی عدم اجرائی کی شکایت چیف منسٹر سے کرنے کا عزم : ٹی آر ایس ایم ایل سی
حیدرآباد۔/9ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل ایم ایس پربھاکر نے اقلیتی بہبود کے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کو 5 ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اس کے لئے عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیا۔ ایم ایس پربھاکر جن سے کمپیوٹر سنٹر اور لائبریریز کے ملازمین نے نمائندگی کرتے ہوئے بتایا کہ 170 سے زائد خاندان گذشتہ 5 ماہ سے معاشی بدحالی کا شکار ہیں اور وہ فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے تساہل اور لاپرواہی کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے علم میں لاتے ہوئے تنخواہوں کی اجرائی کی مساعی کی جائے گی۔ ایم ایس پربھاکر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر داخلہ نے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ جلد سے جلد تنخواہوں کے بقایا جات جاری کردیئے جائیں۔ عہدیداروں نے وعدہ تو کیا لیکن آج تک تنخواہیں جاری نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غریب خاندان تنخواہوں سے محرومی کے سبب اپنا گھر چلانے کیلئے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ایسی خواتین ہیں جن پر گھر کا مکمل انحصار ہے اور تنخواہوں کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں وہ گھر کا کرایہ بھی ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کی عمارتوں کا کرایہ ایک سال سے ادا نہیں کیا گیا۔ ایم ایس پربھاکر نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس عہدیداروں کی ضروریات کی تکمیل کیلئے بجٹ موجود ہے لیکن 170 غریب ملازمین کیلئے کوئی ہمدردی نہیں حالانکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں فوری تنخواہیں جاری کی جانی چاہیئے۔ ٹی آر ایس رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں کئی ایک بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں پائی جاتی ہیں جن کی اعلیٰ عہدیدار پردہ پوشی کررہے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اقلیتی بہبود کا بجٹ بے قاعدگیوں کی نذر ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں کی بے قاعدگیوں اور محکمہ اقلیتی بہبود کے اسکامس کو نہ صرف چیف منسٹر کے علم میں لایا جائے گا بلکہ قانون ساز کونسل میں انہیں موضوع بحث بنائیں گے۔ ایم ایس پربھاکر نے کہا کہ ایسے عہدیدار جو حکومت کی ہدایت پر عمل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود میں جاری سرگرمیوں کے بارے میں انہیں کئی شکایات ملی ہیں جس کا اظہار وہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے کرچکے ہیں۔ عہدیداروں کی من مانی کا یہ عالم ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے  بجٹ کو اقامتی اسکولس کے عہدیداروں کی تعیشات پر خرچ کیا جارہا ہے جبکہ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کارپوریشن کے تحت آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 ڈسمبر سے شروع ہونے والے کونسل کے اجلاس میں وہ ان مسائل کو چیف منسٹر کے علم میں لائیں گے اور ایوان میں پیش کریں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT