Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے لیے 355 کروڑ جاری اور 245 کروڑ خرچ

اقلیتی بہبود کے لیے 355 کروڑ جاری اور 245 کروڑ خرچ

راست قرض اور ائمہ کے اعزازیہ کیلئے رہنمایانہ خطوط، اسکیمات میں شفافیت ضروری، پری میٹرک اسکالر شپ کیلئے 25کروڑ، سید عمر جلیل سے بات چیت
حیدرآباد۔/3نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کیلئے حکومت کو بعض نئی اسکیمات کی تجاویز پیش کی گئیں اور توقع ہے کہ آئندہ مالیاتی سال سے اقلیتی بہبود کی بعض نئی اسکیمات کا آغاز ہوجائیگا۔ جاریہ سال حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1130 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا تھا جس میں سے تاحال 335 کروڑ روپئے جاری کئے گئے جبکہ مختلف اسکیمات پر 245کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں جن میں شادی مبارک اسکیم کے 100کروڑ روپئے شامل ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ سید عمر جلیل نے آج ’سیاست‘ سے بات چیت کرتے ہوئے بجٹ کے خرچ کے علاوہ نئی اسکیمات کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی شدید قلت کے باوجود محکمہ نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سید عمر جلیل نے اعتراف کیا کہ محکمہ کی کارکردگی اور اسکیمات پر شفافیت سے عمل آوری میں بعض خامیاں موجود ہیں وہ ان خامیوں کو دور کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اداروں کے عہدیداروں کے تعاون سے اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی سے 10رکنی اسٹاف حیدرآباد کیلئے حاصل کیا جائے گا۔ فی الوقت  حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں مستقل ملازمین کی تعداد صرف 2 ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد کے بشمول 7اضلاع میں مستقل اقلیتی بہبود عہدیدار موجود نہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس یا پھر مجالس مقامی کے عہدیداروں کو اس عہدہ کی زائد ذمہ داری دی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے 250 ملازمین کے تقررات کا وعدہ کیا ہے  اور سکریٹری اقلیتی بہبود نے 285ملازمین کیلئے تجاویز پیش کی ہیں۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ 37کروڑ روپئے محکمہ فینانس کی منظوری کے منتظر ہیں جبکہ 60کروڑ روپئے کی اسکیمات محکمہ کی جانب سے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کی منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کیلئے بعض نئی اسکیمات کے آغاز کی تجویز پیش کی گئی جن میں غریب اقلیتوں کو چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے فینانس کارپوریشن سے راست قرض کی فراہمی اسکیم شامل ہے تاکہ غریب مسلمانوں کو سود خوروں کے چنگل سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی پری میٹرک اسکالر شپ کے تحت بچ جانے والی تمام درخواستوں کو تلنگانہ حکومت نے اسکالر شپ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے لئے 25کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت ایک لاکھ 76ہزار طلباء کو پری میٹرک اسکالر شپ فراہم کرنے کا نشانہ رکھتی ہے جبکہ 3لاکھ 25ہزار درخواستیں داخل کی گئیں۔ چیف منسٹر کے وعدہ کے مطابق بچ جانے والی درخواستوں کو تلنگانہ حکومت اسکالر شپ جاری کرے گی۔ توقع ہے کہ 25کروڑ روپئے سے دیڑھ لاکھ سے زائد اقلیتی طلباء کو پری میٹرک اسکالر شپ جاری کی جائے گی۔ سید عمر جلیل کے مطابق مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی تجویز حکومت کے زیر غور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ائمہ کو 25ہزار ماہانہ اور درجہ چہارم ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 14ہزار روپئے مقرر کرتے ہوئے حکومت کو تجویز روانہ کی گئی۔ محکمہ فینانس کا کہنا ہے کہ حکومت ریاست کے تمام کنٹراکٹ ملازمین کی تنخواہوں پر نظرِ ثانی کررہی ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد دونوں مساجد کے ملازمین کی تنخواہوں پر نظرِ ثانی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ مسجد کی چھت کی مرمت کیلئے ایک کروڑ 75لاکھ روپئے پر مشتمل تعمیری منصوبہ تیار کیا گیا جسے حکومت کی منظوری کا انتظار ہے۔ مکہ مسجد کے صحن میں واقع آصف جاہی خاندان کے مقبرہ کی ابتر صورتحال کے بارے میں سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ اس کا تعلق محکمہ اقلیتی بہبود سے نہیں ہے بلکہ اس کی نگہداشت کرنا محکمہ آثار قدیمہ کی ذمہ داری ہے وہ اس سلسلہ میں محکمہ آثار قدیمہ کو توجہ دلائیں گے۔ عمر جلیل نے بتایا کہ مکہ مسجد میں موجود مدرسہ حفظ القرآن کے احیاء کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور اس کے لئے انہوں نے علحدہ بجٹ مختص کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ حفاظ کرام کی تیاری سے متعلق اس قدیم مدرسہ کا احیاء عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے تمام انگلش و تلگو میڈیم مدارس میں اردو مادری زبان والے طلباء کیلئے اردو کو بحیثیت فرسٹ لینگویج شامل کرنے کی مساعی شروع کی ہے۔ چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں اسمبلی میں اعلان کیا تھا۔ اس تجویز پر عمل آوری کے سلسلہ میں محکمہ فینانس اور محکمہ تعلیم کی جانب سے بعض رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے اس پر عمل آوری کی فائیل روانہ کی ہے۔ تلنگانہ میں آئندہ تعلیمی سال سے اقلیتی طلباء کیلئے 10ہاسٹلس اور اقامتی مدارس کے آغاز کی تجویز ہے اور اس سلسلہ میں اراضی کی نشاندہی کرلی گئی۔ ایس سی، ایس ٹی ہاسٹلس کی نگرانی کرنے والی سوسائٹی کے تحت اقلیتی طلباء کے ہاسٹلس کو چلانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکالر شپ کے تحت حکومت نے 100کروڑ روپئے مختص کئے تھے جن میں 50کروڑ روپئے جاری کئے گئے اور 25کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ 10نومبر تک گزشتہ سال کی تمام زیر التواء درخواستوں کیلئے اسکالر شپ جاری کردی جائیں۔ فیس باز ادائیگی کیلئے 425کروڑ روپئے مختص کئے گئے جن میں 90کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ ابھی تک 83کروڑ روپئے فیس باز ادائیگی کے طور پر کالجس کو جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی پری میٹرک اسکالر شپ کی ایک ہی وقت میں اجرائی کو یقینی بنانے کیلئے بعض اصلاحات کی ضرورت ظاہر کی۔ تلنگانہ کے ائمہ و مؤذنین کو حکومت نے ماہانہ ایک ہزار روپئے اعزازیہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے 12کروڑ روپئے محکمہ کے پاس موجود ہیں۔ اندرون دو یوم اس اسکیم کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کردیئے جائیں گے اور درخواستوں کے ادخال کیلئے ایک ماہ کی مہلت دی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT