Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی بہبود کے کمپیوٹرس اور لائبریری ملازمین کو فوری تنخواہیں جاری کرنے کی ہدایت

اقلیتی بہبود کے کمپیوٹرس اور لائبریری ملازمین کو فوری تنخواہیں جاری کرنے کی ہدایت

چار ماہ کے بھی بقایا جات ادا کئے جائیں ، محمد محمود علی کی اے کے خاں ، عمر جلیل اور شفیع اللہ سے مشاورت
حیدرآباد۔18 اگست (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے محکمہ اقلیتی بہبود کے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کی تنخواہوں کو عید الاضحی سے قبل ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو منتقل کئے گئے 43 کمپیوٹر سنٹرس اور 31 لائبریریز کے 179 ملازمین گزشتہ چار ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور وہ مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر حکومت کے مشیر اے کے خان، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ سے بات چیت کی اور کہا کہ ملازمین کو بقایاجات کے ساتھ فی الفور تنخواہ جاری کردی جائے تاکہ وہ عید کی خوشیوں میں اپنے بچوں کو شامل کرسکیں۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو بند کرنے کے بجائے انہیں عصری کمپیوٹرس فراہم کرتے ہوئے بحال کیا جائے اور جہاں کہیں بھی لائبریریز کی ضرورت محسوس نہ ہو ان کے ملازمین کو اقامتی اسکولس میں ضم کرتے ہوئے خدمات حاصل کی جائیں۔ انہوں نے 6 تا 10 ہزار تنخواہ کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ سرکاری محکمہ جات میں عارضی ملازمین کو کم سے کم 15 ہزار روپئے ادا کئے جارہے ہیں لہٰذا کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کے تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ دو سال قبل اردو اکیڈیمی سے ان مراکز کو اقلیتی فینانس کارپوریشن منتقلکیا گیا لیکن ابھی بھی تنخواہوں کا بجٹ اردو اکیڈیمی کو جاری کیا جاتا ہے اور وہاں سے منتقلی میں دشواری ہورہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ وہ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے بجٹ کو راست طور پر فینانس کارپوریشن اجرائی یقینی بنائے تاکہ بروقت ملازمین کی تنخواہیں جاری کی جاسکیں۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت غریب ملازمین کی خدمات ختم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ یہ ملازمین 15 تا 20 برسوں سے ان اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لہٰذا انہیں کسی نہ کسی طریقہ سے اقلیتی اداروں میں ضم کیا جائے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ ان ملازمین میں 50 فیصد سے زائد کے پاس تقرر کے احکامات نہیں ہیں جس پر ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تقرر کے احکامات بھلے ہی نہ ہوں لیکن ان کی خدمات کو ختم نہیں کیا جانا چاہئے۔ اقامتی اسکولوں یا پھر محکمہ کے دیگر اداروں میں قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے ان ملازمین کی خدمات حاصل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر سنٹرس کو کم سے کم 8 عصری کمپیوٹرس فراہم کرتے ہوئے اقلیتی طلبہ کے لیے کمپیوٹر کورسس کی ٹریننگ شروع کی جانی چاہئے۔ مسلم آبادی والے علاقوں میں کمپیوٹر سنٹرس کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد اقلیتی امور پر اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوگا جس میں ضلع کلکٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کے بجٹ کے خرچ کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ انہوں نے اے کے خان اور عمر جلیل سے کہا کہ وہ ویڈیو کانفرنس کے ساتھ اعلی سطحی اجلاس کی تیاری کریں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن شفیع اللہ سے کہا کہ بجٹ کی اجرائی تک کسی اور مد سے ملازمین کی تنخواہیں جاری کریں کیوں کہ عید سے قبل وہ پہلے ہی مقروض ہوچکے ہیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں ان پر مزید بوجھ بڑھ جائے گا۔ محمود علی نے مکہ مسجد کی تعمیر و مرمت اور چھت کی حفاظت کے سلسلہ میں عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں اور کہا کہ بارش کے فوری بعد مرمتی کاموں کا آغاز کیا جائے تاکہ اس تاریخی عمارت کا تحفظ ہو۔ حکومت نے 8 کروڑ 48 لاکھ روپئے منظور کئے ہیں اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین مرمتی کام انجام دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ لکشمی ہیری کان پرائیویٹ لمیٹیڈ کو 4 کروڑ 61 لاکھ روپئے میں ٹنڈر منظور کیا گیا ہے اور پہلے مرحلہ کے مرمتی کاموں کا بارش کے فوری بعد آغاز ہوگا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اس تاریخی عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت سنجیدہ ہے اور صحن میں موجود خاندان آصفیہ کی مزارات پر مشتمل مقبرے کی چھت کا تحفظ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے ماہرین سے مشاورت کے بعد مرمتی کاموں کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت چھت کو مزید نقصان پہنچائے بغیر تحفظ ہوگا۔ محمود علی نے کہا کہ حکومت مکہ مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر بھی سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود سے فائیل موصول ہوتے ہی اسے منظوری دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مسجد میں موجودہ عملے کی تعداد میں اضافے کے ذریعہ مسجد کے انتظامات بہتر بنائے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT