Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کو مسلمہ حیثیت،جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی کے احکامات

اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کو مسلمہ حیثیت،جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی کے احکامات

عدالت کی ہدایت پر عمل ، نشستوں میں تخفیف کا متعصبانہ رویہ
حیدرآباد 8 جولائی (سیاست نیوز) اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کو یونیورسٹی کے ذریعہ مسلمہ حیثیت کی فراہمی کے سلسلہ میں جواہرلال نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی نے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ عدالت کی مداخلت کے بعد 19 اقلیتی تعلیمی اداروں کو فراہم کئے گئے الحاق میں بعض انجینئرنگ کالجس کے چند کورسیس و نشستوں کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے نشستوں میں کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ مختلف اقلیتی کالجس نے گزشتہ دنوں عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے یونیورسٹی کے رویہ کی شکایت کی تھی جس پر عدالت نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے 7 جولائی تک اپنے موقف سے واقف کروانے کی ہدایت جاری کی تھی۔ 7 جولائی کی اولین ساعتوں میں بذریعہ ای میل کالج انتظامیہ کو اِس بات سے مطلع کیا گیا کہ یونیورسٹی نے عدالت سے رجوع ہونے والے بیشتر کالجس کو مسلمہ حیثیت و الحاق کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے لیکن کئی کالجس کے چند کورسیس و نشستوں کو حذف کرتے ہوئے اجازت فراہم کردی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر کالجس کے پی جی کورسیس میں بھی تخفیف کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کالج انتظامیہ کو اعتراض کی صورت میں اندرون 2 یوم یونیورسٹی کے  ذمہ داروں سے رجوع ہونے کا وقت فراہم کیا گیا ہے۔ اقلیتی کالجس کے انتظامیہ کی جانب سے نشستوں کی تخفیف کے مسئلہ پر اور کورسیس کو حذف کئے جانے کے معاملہ کو یونیورسٹی سے رجوع کرنے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ کونسلنگ کے دوران طلبہ میں کسی قسم کے اندیشے نہ رہیں بلکہ بہ آسانی داخلوں کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے۔ کالج انتظامیہ کا ادعا ہے کہ 14 تا 16 سال قدیم اقلیتی تعلیمی اداروں کے ساتھ اختیار کردہ یہ رویہ اہانت آمیز تصور کیا جارہا ہے اِسی لئے بہ حالت مجبوری کالجس نے عدالت سے مداخلت کی خواہش کی تھی جس کے نتیجہ میں 19 کالجس کو اجازت نامہ حاصل ہوچکا ہے۔ اقلیتی انجینئرنگ کالجس جنھیں مختلف وجوہات کی بناء پر اجازت نامے اور مسلمہ حیثیت فراہم نہیں کی گئی تھی وہ اب کونسلنگ کی فہرست میں شامل رہیں گے جن میں شاداں گروپ آف انسٹی ٹیوشنس، شاہ عالم خاں کالج آف انجینئرنگ، رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، میدک کالج آف انجینئرنگ کے علاوہ دیگر سرکردہ کالجس شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT