Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی سبسیڈی اسکیم کا آغاز ہنوز نہیں ہوسکا

اقلیتی سبسیڈی اسکیم کا آغاز ہنوز نہیں ہوسکا

کارپوریشن سے کوئی پیشرفت نہیں ، اسکیم پر اندرونی حلقوں میں اسکام
حیدرآباد۔ 23۔ مئی  ( سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن سے بینکوں سے مربوط قرض پر سبسیڈی کی اجرائی اسکیم کیلئے درخواستوں کے حصول کو دو ماہ مکمل ہوگئے لیکن آج تک اسکیم کا آغاز نہیں ہوسکا جس کے باعث ایک لاکھ پچاس ہزار درخواست گزاروں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ حکومت نے اسکیم میں ترمیم کرتے ہوئے اقلیتوں کو خود مکتفی بنانے اور کاروبار کے آغاز کیلئے 10 لاکھ تک سبسیڈی کی فراہمی کا اعلان کیا تھا جس کیلئے مقررہ آخری تاریخ 15 اپریل تک ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد درخواست فارم داخل کئے گئے جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کا نشانہ صرف 8200 افراد کو سبسیڈی جاری کرنا ہے۔ درخواستوں کے حصول کے بعد سے اقلیتی فینانس کار پوریشن اسکیم کے بارے میں خاموش ہے اور لوگ روزانہ کارپوریشن کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ زائد درخواستوں کے حصول کے باعث کارپوریشن اس موقف میں نہیں کہ سبسیڈی کی فراہمی کیلئے اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرسکے۔ دوسری طرف اسکیم میں کارپوریشن کے اندرونی افراد کی جانب سے بعض بے قاعدگیوں کی شکایات ملی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض امیدواروں کو کارپوریشن کی جانب سے منظوری سے متعلق پروسیڈنگ لیٹرس جاری کردیئے گئے اور وہ امیدوار بینکوں سے رجوع ہوکر قرض کے حصول کی کارروائی کر رہے ہیں جبکہ دیگر امیدواروں کو کارپوریشن کی جانب سے کچھ نہ کچھ بہانہ بناکر ٹال دیا جارہا ہے۔ حال ہی میں سکریٹری اقلیتی بہبود نے کارپوریشن کو ہدایت دی تھی کہ ایک لاکھ تک سبسیڈی سے متعلق درخواستوں کی یکسوئی کا آغاز کردیا جائے لیکن کارپوریشن کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ بتایا جاتاہے کہ اس اسکیم کے سلسلہ میں کارپوریشن کے اندرونی حلقوں میں اسکام جاری ہے۔ اسی دوران کانگریس کے سٹی آرگنائزنگ سکریٹری بی اے اشرف اللہ خاں نے کارپوریشن کی بدعنوانیوں کی جانچ کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ریاستی گورنر اور چیف سکریٹری سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مکتوب روانہ کیا۔ اشرف اللہ خاں نے کہا کہ حکومت نے ایک لاکھ روپئے کے قرض پر سبسیڈی سے متعلق درخواستوں کی فی الفور یکسوئی کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک عمل آوری نہیں کی گئی ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے اگزیکیٹیو ڈائرکٹر نے درخواست گزاروںکو متعلقہ بینک سے رجوع ہونے کی ہدایت دی لیکن بینکرس یہ کہہ کر درخواست گزاروں کو واپس کر رہے ہیں کہ ان کا نشانہ مکمل ہوچکا ہے ۔ دوسری طرف اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدیدار سبسیڈی کیلئے بجٹ نہ ہونے کا بہانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف بینکوں نے نشانہ کی تکمیل کا بہانہ بناکر امیدواروں کو واپس کردیا ہے۔ اشرف اللہ خاں کے مطباق ہزاروں کی تعداد میں درخواستوںکو بینکوں کی جانب سے مسترد کئے جانے کیلئے کارپوریشن کے عہدیدار ذمہ دار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروںکی ملی بھگت کے باعث اسکیم پر عمل آوری سے حقیقی غریبوں کو فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے ۔ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ پر غیر اردو داں اور حیدرآباد ای ڈی کے عہدہ پر غیر مسلم اقلیت کے عہدیدار کو فائز کیا گیا جس سے اقلیتوںکو دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ ان عہدیداروں کو اقلیتوں اور ان کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں۔

TOPPOPULARRECENT