Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی سرکاری اداروں پر نامزد عہدوں کے لیے فہرست پیش

اقلیتی سرکاری اداروں پر نامزد عہدوں کے لیے فہرست پیش

ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے فہرست چیف منسٹر کے حوالے کی ۔ سینیاریٹی کے اعتبار سے ترجیحات مقرر
حیدرآباد۔/27اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی سرکاری اداروں پر نامزد عہدوں کیلئے پارٹی قائدین کے ناموں کی فہرست چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو پیش کردی گئی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے قائدین کی فہرست چیف منسٹر کے حوالے کی جس میں سینیاریٹی کے اعتبار سے ترجیحات مقرر کی گئیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے قیام سے لے کر حکومت کے قیام تک مختلف مراحل میں پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کو علحدہ علحدہ زمروں میں رکھا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے خود اس بات کی ہدایت دی تھی کہ نامزد عہدوں کیلئے ایسے قائدین کو ترجیح دی جائے گی جو پارٹی کے قیام سے وابستہ ہیں اور جنہوں نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا ہے۔ پارٹی قائدین کے بائیو ڈاٹا اکٹھا کرتے ہوئے اپنی سفارشات کے ساتھ پیش کرنے کی ڈپٹی چیف منسٹر کو کے سی آر نے ہدایت دی تھی جس کے مطابق شہر اور اضلاع سے قائدین کے بائیو ڈاٹا حاصل کرتے ہوئے چیف منسٹر کو حوالے کردیا گیا۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ کی امریکہ سے واپسی کے ساتھ ہی عہدہ کے خواہشمندوں کی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ کے ٹی آر کی امریکہ سے واپسی کے ساتھ ہی نامزد عہدوں پر تقررات کا عمل شروع ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ قائدین عہدوں کی دوڑ میں مختلف وزراء سے سفارش حاصل کرنے کیلئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی قائدین کی اکثریت کی خواہش ہے کہ انہیں صدرنشین کا عہدہ دیا جائے۔ اس طرح صدرنشین کے عہدہ کے دعویداروں کی کثرت نے حکومت کیلئے اُلجھن پیدا کردی ہے۔ چیف منسٹر پہلے مرحلہ میں 3 اقلیتی اداروں اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی پر تقررات کے خواہاں ہیں اور شہر اور اضلاع میں ان اداروں کے صدرنشین کے عہدہ کے دعویداروں کی تعداد 100سے زائد بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈائرکٹر کے عہدہ کیلئے سینکڑوں درخواستیں ہیں۔ پارٹی میں حال ہی میں شامل ہونے والے اور غیرسنجیدہ افراد کو شامل کرلیا جائے تو خواہشمندوں کی فہرست ہزاروں میں پہنچ جائے گی۔ اگر عہدوں کیلئے خواہشمندوں کی تعداد کا تناسب دیکھا جائے تو ایک انار سو بیمار جیسی مثل صادق آتی ہے۔ ابھی جبکہ ناموں کی فہرست چیف منسٹر کو پیش کی گئی اور چیف منسٹر نے ابھی تک درخواستوں کا جائزہ نہیں لیا تاہم کئی قائدین ایسے ہیں جو خود کو اہم دعویدار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ کئی قائدین کھلے عام یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ چیف منسٹر نے ان کے نام کو منظوری دے دی ہے۔ بعض قائدین تو حج ہاوز کے چکر کاٹ رہے ہیں تاکہ اپنے پسندیدہ ادارہ کے صدرنشین کے چیمبر اور اس عہدہ کیلئے حاصل مراعات کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفاتر پہنچ کر کئی افراد نے ان کے نام کو قطعیت دیئے جانے کا دعویٰ کیا۔ ان دنوں اقلیتی بہبود کے دفاتر میں ٹی آر ایس قائدین اپنے کاموں کی تکمیل کیلئے خود کو چیف منسٹر سے قریب ظاہر کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فائیلوں کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے بعض قائدین نے خود کو چیف منسٹر کا قریبی ظاہر کیا اور یہاں تک دعویٰ کیا کہ وہ کسی کے حق میں جب چاہے جی او حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ دعویٰ کرتے وقت وہ یہ بھول رہے ہیں کہ چیف منسٹر سے قربت کے باوجود انہوں نے اپنا جی او خود کیوں جاری نہیں کرایا۔ الغرض ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین میں عہدوں کیلئے زبردست دوڑدھوپ چل رہی ہے اور ڈپٹی چیف منسٹر سمیت دیگر وزراء پر سفارش کیلئے شدید دباؤ ہے۔بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے دیپاولی تک بعض نامزد عہدوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ اب جبکہ دیپاولی کو  دو دن باقی ہیں دیکھنا یہ ہوگا کہ چیف منسٹر آیا اقلیتی اداروں پر توجہ کریں گے یا نہیں۔ جیسے جیسے دیپاولی قریب آرہی ہے اقلیتی قائدین کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی ہیں۔ اکثر قائدین کو دیکھا گیا کہ ان کی دعویداری صدرنشین سے کم نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT