Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طبقات کے اساتذہ کے تقررات کو یقینی بنانے کے اقدامات

اقلیتی طبقات کے اساتذہ کے تقررات کو یقینی بنانے کے اقدامات

ٹی ایس پی ایس سی مابقتی امتحانات کی طرز پر تربیت ، اے کے خاں کا خطاب
حیدرآباد۔16فبروری(سیاست نیوز) مشیر حکومت تلنگانہ برائے اقلیتی امور و چیرمن تلنگانہ اقلیتی اقامتی ایجوکیشنل انسٹیٹویشنل سوسائٹی جناب اے کے خان نے کہاکہ اقلیتوں کے تحفظ وتمدن کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ٹی ایم آر آئی ایس کی جانب سے اقلیتی طبقات کے اساتذہ کے تقررات کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جارہے ہیںاور اس ضمن میں شہر حیدرآباد میں دو اور اضلاع میں ایسے دس تربیتی مراکز قائم کئے گئے ہیںجہاں پر اساتذہ زمرہ کے درخواست گذاروں میں مفت تربیتی مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر اساتذہ زمرہ کے درخواست گذاروں کو مفت تربیت دی جائے گی اور مذکورہ درخواست گذاروں کے درمیان ٹی ایس پی ایس سی کے طرز پر مسابقتی امتحانات منعقد کئے جائیںگے ۔آج یہاں پرانے شہر میںخلوت میدان میںواقع اسٹانڈرڈ پبلک اسکول میں جاری سی ای ڈی ایم کے تحت تربیتی مرکز کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جناب اے کے خان نے کہاکہ شہر حیدرآباد میںمسلم اقلیتوں کی آبادی کا تناسب زیادہ ہے اور اسی وجہہ سے یہاں پر زائد اقامتی اسکولس قائم کرنے کا منصوبہ بنایاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ٹی ایم آر آئی ایس کے تحت 71اقامتی اسکولس میںپہلے سے طلبہ وطالبات تعلیم حاصل کررہے ۔ مزید 130اسکولس قائم کئے جائیں گے جہا ں پر سات ہزار سے زائد تدریسی عملے کی ضرورت ہے اور پہلے مرحلے میں ٹی ایم آرائی ایس 2800اساتذہ کی جائیدادوں کو پر کریگا۔ ٹی ایس پی یس سی کے تحت ان اساتذہ کا تقرر عمل میں آئے گا اور گریجویشن کے ساتھ ٹیٹ کے امتحان میں کامیاب اساتذہ کو ابتداء میںہی 43تا44ہزار تنخواہ مقرر کی جائے گی جبکہ پوسٹ گریجویٹ اور ٹیٹ امتحان کامیاب کرنے والے امیدواروں کی تنخواہیںپچاس ہزار سے زائد رہیں گی اس کے علاوہ پرنسپل کے خدمات انجام دینے والوں کو 65تا70ہزار تنخواہ ادا کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مقصد معیاری تعلیم کی فراہمی ہے اس میںہم کسی قسم کی رعایت نہیںبرتیں گے ۔ اساتذہ زمرہ کے 616امیدوار اب تک ہمارے تمام سنٹرز سے رجوع ہوئے ہیںاور ان میں 95فیصد خواتین ہیں جو خوش آئند بھی ہے۔ ٹی ایم آرائی ایس کے تحت شروع کئے جانے والے تمام اقامتی اسکولس میں خواتین کے لئے پچاس فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ خاتون ٹیچرس کی نگرانی میں ٹی ایم آرائی ایس کے طلباء او رطالبات نہ صرف بہتر تعلیم حاصل کرسکتے ہیںبلکہ انہیںاپنی تہذیب وتمدن سے جڑے رہنے کا بھی بھر پور موقع ملے گا۔ ہاسٹل میں مسلم اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لئے دینیات کلاسس کا بھی انعقاد عمل میںلایاجارہا ہے اور باجماعت نمازوں کی ادائی کی سہولتیںبھی انہیں فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس بار 130اسکولس میں داخلہ اور تمام اسکولس میںٹیچرس کے تقررات کو یقینی بنانے کا کام کیاجانا ہے ۔ انہوں نے طلباء ‘ اولیاء طلبہ اور اساتذہ زمرہ کے امیدواروں سے خواہش کی کہ وہ اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میںاقلیتی طبقات کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں اہم رول ادا کریں۔ جناب اے کے خان نے گریجوئٹ او رپوسٹ گریجوئٹ امیدوار جنھوں نے ٹیٹ امتحان میںکامیابی حاصل کی ہے سے اپیل کی ہے کہ وہ مذکورہ تربیتی مراکز سے رجوع ہوکر حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت تربیت سے استفادہ کریں۔ اس موقع پر ڈائرکٹر اُردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT