Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طبقات کے حقوق کو تحفظ فراہم کی نمائندگی پر حکومت کا غور

اقلیتی طبقات کے حقوق کو تحفظ فراہم کی نمائندگی پر حکومت کا غور

ریاستی اقلیتی کمیشن کو حکومت سے ٹھوس اقدامات کی امید ، جلد اقدامات کی ضرورت
حیدرآباد ۔ /12 فبروری (سیاست نیوز)  ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے اقلیتی طبقات کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک قانون کا مسودہ تیارکرتے ہوئے حکومت کو روانہ کیا گیا ہے لیکن تاحال اس پر حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ریاست میں اقلیتوں کے تحفظ بالخصوص ان کیلئے قانون سازی کے متعلق سنجیدہ نہیں ہے ۔ ریاستی اقلیتی کمیشن آندھراپردیش و تلنگانہ کی جانب سے گزشتہ ماہ کے اوائل میں ایس سی ایس ٹی طبقات کے طرز پر اقلیتی طبقات کو تحفظ کی فراہمی بالخصوص انہیں ہراساں ہونے سے بچانے کیلئے اقدامات کے طور پر ایک مسودہ تیار کیا گیا اور اسے قانونی شکل دینے کیلئے حکومت کو روانہ کیا جاچکا ہے ۔ اس مسودہ کی تیاری کیلئے ماہرین قانون سے مدد حاصل کی گئی تھی اور متعلقہ محکمہ جات کو مسودہ روانہ کرتے ہوئے اس بات کی توقع ظاہر کی جارہی تھی کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گی اور آئندہ اسمبلی اجلاس کے دوران ریاستی سطح پر اس قانون کو روشناس کرواتے ہوئے ریاست میں بسنے والے اقلیتی طبقات کے اعتماد میں اضافہ کرے گی ۔ جناب عابد رسول خان صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن آندھراپردیش و تلنگانہ نے اس سلسلے میں شہر کی اہم شخصیات بالخصوص بااثر طبقہ کو بھی مسودہ روانہ کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ اس مسودہ قانون کو زبردست عوامی تائید حاصل ہوگی اور حکومت کی جانب سے بھی کمیشن کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے قانون کو منظور کرنے کے متعلق سنجیدہ اقدامات کئے جائیں گے ۔ اقلیتی کمیشن کو موصول ہونے والی شکایات بالخصوص عبادت گاہوں پر حملے ، فرقہ پرست نوعیت کے قتل ، جائیدادوں سے بے دخلی ، اقلیتوں کے تیئں بینکوں کا رویہ ، فرقہ پرست نوعیت کے عصمت ریزی کے واقعات کے علاوہ جائیدادوں سے محرومی و پٹہ جات کی اجرائی سے انکار جیسے شکایات کے بعد کمیشن نے اس طرح کی شکایات کے اعادہ کو روکنے کیلئے اس مسودہ کو تیار کرتے ہوئے حکومت کو تجویز روانہ کی تھی کہ حکومت اسے قانونی شکل فراہم کرتے ہوئے اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو دور کرے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب مسودہ کے متعلق اعلیٰ سرکاری عہدیدار جائزہ حاصل کررہے ہیں لیکن تاحال اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی پیشرفت کے متعلق آگہی دینے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے روانہ کردہ رپورٹس کی طرح اس مسودہ قانون کو بھی حکومت نے نظر انداز کرنے کا تہیہ کرلیا ہے یا پھر عہدیدار اس مسئلہ کو حکومت بالخصوص چیف منسٹر سے رجوع کرنے سے کترارہے ہیں ۔ چونکہ اس طرح کے قانون کی منظوری کی صورت میں ریاست کے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کو ایس سی ایس ٹی طبقات کے طرز پر تحفظ حاصل ہونے کی توقع ہے ۔

TOPPOPULARRECENT