Monday , March 27 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طبقہ کے 1.8 لاکھ غریب امیدوار ہنوز حصول قرض سے محروم

اقلیتی طبقہ کے 1.8 لاکھ غریب امیدوار ہنوز حصول قرض سے محروم

کارپوریشن کے دفتر کو روزانہ چکر کاٹنے کے باوجود کوئی راحت نہیں
حیدرآباد۔/15نومبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار غریب امیدوار گذشتہ ایک سال سے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض کے حصول کا انتظار کررہے ہیں۔ حکومت نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ 2 تا 10 لاکھ روپئے قرض کی فراہمی کی اسکیم کا اعلان کیا تھا جس کے تحت  تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار افراد نے درخواستیں داخل کیں۔ یہ درخواست گذار اب بینک سے قرض اور کارپوریشن سے سبسیڈی کیلئے روزانہ چکر کاٹنے پر مجبور ہیں لیکن انہیں مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگا۔ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ان غریب افراد کو توقع تھی کہ حکومت اپنے وعدہ کے مطابق سبسیڈی فراہم کرے گی لیکن درخواستوں کے حصول کے بعد سے کارپوریشن نے گذشتہ کئی ماہ سے کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ جاریہ مالیاتی سال اس اسکیم پر عمل آوری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کیلئے 150 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کئے تھے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 34 کروڑ 50 لاکھ روپئے اس اسکیم پر خرچ کئے گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نئی اسکیم پر عمل آوری کا باقاعدہ آغاز ہی نہیں ہوا تو پھر یہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ مالیاتی سال کی منظورہ درخواستوں کو سبسیڈی کی اجرائی کیلئے یہ رقم خرچ کی گئی ہے۔ حکومت نے درخواستوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ ایک لاکھ تک قرض کی درخواستوں کی پہلے مرحلہ میں یکسوئی کی جائے گی لیکن آج تک بھی یہ کام  شروع نہیں ہوا اور ایک لاکھ سے کم قرض کے درخواست گذاروں کو منظوری سے متعلق مکتوب حاصل نہیں ہوا۔ لوگ قرض کیلئے اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے تھے تو دوسری طرف کارپوریشن کے بعض اندرونی افراد کی ملی بھگت سے فرضی پروسیڈنگ لیٹرس جاری کئے گئے جس کے عوض امیدواروں سے رقومات حاصل کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ درمیانی افراد نے اس اسکیم پر عمل آوری کا لالچ دیتے ہوئے درخواست گذاروں سے رقومات حاصل کرلی ہیں جبکہ کارپوریشن کے عہدیدار اس مسئلہ پر کچھ بھی کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کارپوریشن کے عہدیدار فی الوقت اپنی اسکیمات پر عمل آوری سے زیادہ اقامتی اسکولس کے کاموں میں مصروف ہیں اور کارپوریشن کی سرگرمیوں کو ٹھپ کردیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ اقامتی اسکولس کیلئے علحدہ عملے کا تقرر کرتی لیکن کارپوریشن کے اہم عہدیداروں کو اسکولوں کے کام میں مصروف کردیا گیا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب وہ کارپوریشن کی اسکیمات پر عمل آوری سے قاصر ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق 90 ہزار ایسی درخواستیں ہیں جس میں ایک لاکھ سے کم قرض کی درخواست کی گئی تاکہ چھوٹے کاروبار شروع کئے جاسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2 لاکھ تک قرض کی بعض درخواستوں کو منظوری دی گئی اور اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں کی سفارش نے اہم رول ادا کیا جبکہ حکومت نے پہلے مرحلہ میں ایک لاکھ تک کی درخواستوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت درخواستوں کی یکسوئی کا نشانہ 8000 ہے اور کارپوریشن کیلئے ایک لاکھ 80 ہزار درخواستوں میں 8 ہزار کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہے اس کے لئے قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے چھوٹے قرض کی درخواستوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں ایک سے زائد مرتبہ عہدیداروں کو ہدایت دی لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ کارپوریشن کی دیگر اسکیمات کا بھی کچھ یہی حال ہے اور امیدواروں کو اسکیمات کے آغاز کے سلسلہ میں مایوسی کا سامنا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT