Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طلباء سیول سرویس کوچنگ میں تاخیر سے امیدواروں میں بے چینی

اقلیتی طلباء سیول سرویس کوچنگ میں تاخیر سے امیدواروں میں بے چینی

محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہی سے گذشتہ سال بھی طلباء کی کوچنگ سے محرومی
حیدرآباد۔/3جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ کیلئے سیول سرویسیس کی کوچنگ کے آغاز میں پھر ایک مرتبہ تاخیر کے سبب منتخب امیدواروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ گذشتہ سال محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہی کے نتیجہ میں ایک سال اقلیتی طلبہ سیول سرویسیس کی کوچنگ سے محروم رہ گئے تھے۔ اب جبکہ جاریہ سال طلبہ میں کوچنگ کے بارے میں اُمید پیدا ہوئی تھی تاہم محکمہ کے عہدیداروں کی عدم دلچسپی نے کوچنگ کے آغاز میں تاخیر کردی ہے۔ اگرچہ خانگی کوچنگ سنٹرس میں جاریہ سال کے بیاچس کا آغاز ہوچکا ہے لیکن اقلیتی طلبہ اسکریننگ ٹسٹ میں کامیابی کے باوجود داخلے سے صرف اس لئے محروم ہیں کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے خانگی کوچنگ سنٹرس سے ابھی تک معاہدہ کی تکمیل نہیں کی۔ واضح رہے کہ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کے ذریعہ 100 اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسیس کی کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گذشتہ سال اسکریننگ ٹسٹ میں منتخب 42 طلبہ جاریہ سال کوچنگ کیلئے دوبارہ رجوع ہوئے جبکہ 58 دیگر طلبہ کا اسکریننگ ٹسٹ کے ذریعہ انتخاب عمل میں آیا۔ ابتداء میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ گذشتہ سال کے 42 طلباء کو فوری طور پر داخلہ دلایا جائے تاہم نامور کوچنگ سنٹرس سے معاہدہ میں تاخیر کے نتیجہ میں یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ جاریہ سال کے بیاچ کیلئے اسکریننگ ٹسٹ اور اس کے نتائج کا اعلان کردیا گیا لیکن منتخب طلبہ داخلے سے محروم ہیں۔ حکومت نے جن کوچنگ سنٹرس میں اقلیتی طلبہ کو داخلہ دلانے کا فیصلہ کیا ہے ان میں آر سی ریڈی، حیدرآباد اسٹڈی سرکل اور برین ٹری جیسے ادارے شامل ہیں۔ منتخب طلبہ سے مذکورہ اداروں کے بارے میں آپشن حاصل کیا گیا اور ان کی پسند کے اداروں میں داخلہ دلایا جائے گا اور کوچنگ کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے کوچنگ سنٹرس کے ذمہ داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے یادداشت مفاہمت کے امور کو قطعیت دی لیکن ابھی تک ان اداروں سے معاہدہ نہیں کیا جاسکا۔ بتایا جاتاہے کہ یادداشت مفاہمت کی نقل سکریٹری اقلیتی بہبود کو روانہ کردی گئی ہے جو گذشتہ ایک ہفتہ سے منظوری کی منتظر ہے۔ دوسری طرف کوچنگ سنٹرس میں جاریہ سال کے بیاچس کا آغاز ہوچکا ہے جس کے باعث اقلیتی طلبہ میں بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ اگر معاہدہ میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو طلبہ کے داخلے میں نہ صرف مشکلات پیدا ہوں گی بلکہ وہ ابتدائی کوچنگ سے محروم ہوجائیں گے۔ انہیں ابتدائی حصہ کی تعلیم سے محروم رہیں گے جس کا اثر راست طور پر نتائج پر پڑ سکتا ہے۔ اسی دوران حکومت کے مشیر برائے اقلیتی اُمور اے کے خاں نے تیقن دیا کہ اندرون ایک ہفتہ اقلیتی طلبہ کے داخلوں کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT