Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طلباء کو اوور سیز اسکالر شپ کیلئے 11 کروڑ 74 لاکھ جاری

اقلیتی طلباء کو اوور سیز اسکالر شپ کیلئے 11 کروڑ 74 لاکھ جاری

رقم منتخب 210 طلباء کے اکاونٹس میں فوری منتقل کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔ /10نومبر، ( سیاست نیوز) بیرون ملک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کیلئے اقلیتی طلباء کو اسکالر شپ فراہمی سے متعلق اسکیم کے 210 منتخب طلباء میں پہلی قسط جاری کردی گئی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے تمام ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو مجموعی طور پر 11کروڑ 74لاکھ روپئے جاری کئے اور ہدایت دی کہ جلد سے جلد منتخب امیدواروں کے اکاؤنٹ میں رقم کو منتقل کردیا جائے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اس اسکیم کے منتخب طلباء میں رقم کی عاجلانہ اجرائی کیلئے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی۔ تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں اقلیتی طلباء کیلئے اس طرح کی منفرد اسکیم کا آغاز کیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت پہلے مرحلہ میں 210 طلباء کا انتخاب کیا گیا اور توقع ہے کہ مزید 20تا25طلباء کو اس اسکیم کے دائرہ میں شامل کیا جائے گا۔ اقلیتی بہبود کے عہدیدار ان طلباء کے داخل کئے گئے اسنادات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس رقم کی پہلی قسط 5 لاکھ روپئے اکاؤنٹ میں جمع کرنے سے قبل اس بات کا جائزہ لیں گے آیا امیدوار نے بیرونی یونیورسٹی میں داخلے کا ایڈمیشن کارڈ، ایر لائنس کا بورڈنگ کارڈ اور دستاویزات کی حقیقی ہونے سے متعلق حلف نامہ داخل کیا ہو۔ ان تینوں اُمور کی تکمیل کرنے والے منتخب طلباء کو پہلی قسط کے طور پر 5لاکھ روپئے جاری کردیئے جائیں گے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اندرون دو یوم تمام امیدواروں کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کردی جائے گی۔ اس اسکیم کے بارے میں مختلف گوشوں سے اندیشوں کا اظہار کیا جارہا تھا تاہم چیف منسٹر نے جاریہ سال کسی بھی حالت میں اسکیم کے آغاز کی ہدایت دی جس کے باعث 210طلباء کا انتخاب اور بجٹ کی اجرائی ممکن ہوسکی۔ اس اسکیم کے تحت امریکہ، کنیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور سنگاپور کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کیلئے اسکالر شپ کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے جاریہ سال 25کروڑ روپئے مختص کئے تھے اور 12کروڑ 50لاکھ روپئے جاری کردیئے گئے۔ محمد محمود علی نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت آئندہ سال کے اوائل میں دوبارہ نئی درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ ایسے امیدوار جو پہلے مرحلہ میں بعض وجوہات کے سبب منتخب نہیں ہوسکے وہ ضروری امتحانات میں حصہ لیتے ہوئے دوبارہ درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر اقلیتی بجٹ کے مکمل خرچ کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور انہوں نے عہدیداروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس میں آئندہ مالیاتی سال سے بعض نئی اسکیمات کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکیمات پر عمل آوری میں شفافیت کے سلسلہ میں عہدیداروں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT