Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طلبہ کو مرکزی تعلیمی وظائف کی فراہمی یقینی

اقلیتی طلبہ کو مرکزی تعلیمی وظائف کی فراہمی یقینی

جناب زاہد علی خان کی توجہ دہانی پر جناب ظفر سریش والا کی مرکزی وزیر اور ذمہ داروں سے نمائندگیاں
حیدرآباد۔14مارچ ( سیاست نیوز) مسلمان اپنے مسائل کو سیاسی الجھنوں کا شکار بنانے کے بجائے انہیں راست طورپر حل کروانے کی کوشش کریں چونکہ سیاستداں مسائل کا حل کرنے کی بجائے ان کے استحصال کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چانسلر مولانا آزاد اردو نیشنل اردو یونیورسٹی جناب ظفر سریش والا نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اقلیتی طلبہ کو فراہم کی جانے والی اسکالرشپس کے متعلق بتایا کہ مرکزی  وزارت اقلیتی اُمور نے اس بات کی طمانیت دی ہے کہ مدت گذر بھی گئی تو ضرور تعلیمی وظائف کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ کی توجہ دہانی پر انہوں نے مرکزی حکومت کے ذمہ دار ارباب سے بات چیت کی ہے اور ارباب کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ضرور اقلیتی طلبہ کو تعلیمی وظائف جاری کئے جائیں گے ۔ جناب ظفر سریش والا نے بتایا کہ مرکزی وزیر اقلیتی اُمور محترمہ نجمہ ہپت اللہنے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جب حکومت بجٹ میں اضافہ کررہی ہے تو اجرائی میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیئے لیکن جو شکایات موصول ہورہی ہیں ان کے ازالہ کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ہونے والی تاخیر دو کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کی جائے گی اور جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور کیا جائے گا ۔ جناب ظفر سریش والا کے بموجب مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے نمائندگی کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے اور یہ نمائندگیاں ضرور حکومت پر اثرانداز ہوتی ہیں ۔ انہوں نے محکمہ آیوش کی جانب سے قانون حق آگہی کے تحت فراہم کردہ اطلاع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں اس بات کی اطلاع موصول ہوئی تو فوری انہوں نے متعلقہ وزیر سے رابطہ قائم کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیں اور کہا کہ اگر مودی حکومت کی یہ پالیسی نہیں ہے تو وزیر خود اس بات کی وضاحت کریں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی مداخلت اور مذـکورہ اطلاع پر جواز طلب کرنے پر ہی حکومت کو جواب دینے کیلئے مجبور ہونا پڑا اور متعلقہ وزیر نے وضاحت کی ۔ جناب ظفر سریش والا نے مالی سال کے اختتام پر بجٹ کی ترقی سے متعلق بتایا کہ جب چوتھے پانچ سالہ منصوبہ میں دیئے جانے والے رقومات کی پانچویں پنچسالہ منصوبہ کے چوتھے سال میں اجرائی کی ممکن بنایا جاسکتا ہے تو محکمہ اقلیتی اُمور کی جانب سے بجٹ کیلئے بھی ایسی ہے راہیں نکالی جائیں گی ۔انہوں نے بتایا کہ خامیوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے اگر سوال کرنے کی عادت ڈالی جائے تو یقینا مسلمانوں کے حالات تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ اسی لئے کسی فرد یا حکومت سے ملاقات یا اس سے نمائندگی سے گریز کرنے کے بجائے اپنے مسائل کو پیش کرنے پر توجہ مبذول کرنی چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT