Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی غریب خاندانوں کو عصری اور معیاری تعلیم چیف منسٹرکا عزم

اقلیتی غریب خاندانوں کو عصری اور معیاری تعلیم چیف منسٹرکا عزم

اقامتی اسکولس کا قیام کے سی آر کا انقلابی اقدام ، ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ بی سمن کا بیان
حیدرآباد ۔ 13۔ جون (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے کہا کہ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کیلئے اقامتی اسکولس کے قیام کا اقدام چیف منسٹر کے سی آر کے انقلابی فیصلہ ہے ۔ کے سی آر نے غریب خاندانوں کو عصری اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے ریاست بھر میں اقامتی اسکولس کا جال بچھادیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی سمن نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے تعلیم کو نظرانداز کردیا تھا ، جس کے نتیجہ میں معیار تعلیم گھٹ گیا اور غریب افراد تعلیم سے دور ہوگئے ۔ تعلیم کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن سابقہ حکومتوں نے کبھی بھی عوام کو یہ سہولت فراہم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شعبہ تعلیم کے استحکام پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے ۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طبقات کی تعلیمی ترقی کیلئے اقامتی اسکولس کا نظریہ پیش کیا گیا اور ملک بھر میں اس طرح کے اسکولوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے پسماندہ طبقات کی ترقی کا جو خواب دیکھا تھا ، اس کی تکمیل کے سی آر کر رہے ہیں۔ سابق میں متحدہ آندھراپردیش میں اقامتی اسکولس کی تعداد 270 تھی لیکن کے سی آر حکومت نے تلنگانہ میں ابھی تک 487 اقامتی اسکولوں کو منظوری دی ہے۔ چیف منسٹر نے خواتین کیلئے 31 اقامتی ڈگری کالجس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے ۔ سمن نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ حکومت کے فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کو بھلا کر صرف تنقیدوں کا سہار لے رہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے فلاحی اسکیمات کے بارے میں معلومات حاصل کریں ۔ ان اسکیمات کے سبب عوام کی جانب سے حکومت کو جو تائید حاصل ہورہی ہے وہ اپوزیشن کو برداشت نہے ہورہی ہے۔ جے اے سی کے صدرنیشن کودنڈا رام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سمن نے کہا کہ کیا ترقیاتی اور فلاحی کام انہیں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کا نعرہ کودنڈا رام نے لگایا تھا اور اب جبکہ کے سی آر حکومت اس سلسلہ میں پیش قدمی کر رہی ہے، جی اے سی کی جانب سے تنقیدیں باعث افسوس ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کودنڈا رام کا ایجنڈہ عوام میں منظر عام پر آچکا ہے ۔ وہ اپوزیشن کے ایجنٹ کی طرح حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سمن نے کہا کہ چیف منسٹر کا ایقان ہے کہ پسماندہ طبقات کی ترقی کے بغیر سنہرے تلنگانہ کا خواب پورا نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں حکومت اقامتی اسکولس کی تعداد میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اقامتی اسکولس پر حکومت کی جانب سے 15473 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں جبکہ 17592 افراد کو روزگار حاصل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں میں 3 لاکھ 41 ہزار طلبہ نے داخلہ حاصل کیا ہے۔ اسی دوران قانون ساز کونسل میں گونمنٹ وہپ بی وینکٹیشورلو نے پسماندہ طبقات کی ترقی کیلئے حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ تلنگانہ میں 90 فیصد آبادی پسماندہ اور کمزور طبقات پر مشتمل ہے اور حکومت ان کی طرف توجہ مرکوز کرچکی ہے ۔ رکن قانون ساز کونسل راجیشور راؤ نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں تلنگانہ بہت جلد ملک میں سرفہرست ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دیگر ریاستیں کے سی آر حکومت کے اقامتی اسکول نظریہ کی تفصیلات حاصل کر رہی ہیں تاکہ دیگر ریاستوں میں بھی اقامتی اسکولس کا آغاز ہو۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT