Monday , April 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی فینانس کارپوریشن عہدیداروں کے پر تعیش چیمبرس

اقلیتی فینانس کارپوریشن عہدیداروں کے پر تعیش چیمبرس

غریب قرض سے محروم لیکن دفتر کی آرائش کے لیے لاکھوں روپئے خرچ ، مہنگا اکسرسائز مشین اور دیگر سہولیات
حیدرآباد۔10 اپریل (سیاست نیوز) اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی کے بجائے اگر عہدیدار اپنی تعیشات اور آرام کیلئے لاکھوں روپئے خرچ کردیں تو غریب درخواست گذاروں کے دل پر کیا گذرے گی؟ کچھ یہی صورتِ حال اقلیتی فینانس کارپوریشن میں دیکھی جارہی ہے، جہاں اہم سرکاری اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار انتہائی سست ہے، لیکن صدرنشین اور مینیجنگ ڈائریکٹر کے چیمبرس کو آرام و آسائش کی ہر ممکن سہولتیں فراہم کرنے پر لاکھوں روپئے پانی کی طرح بہا دیئے گئے اور کوئی اعلیٰ عہدیدار پرسان حال نہیں ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت غریبوں کو بینکوں سے قرض پر مبنی سبسڈی کی اجرائی اسکیم پر گزشتہ دو سال سے عمل آوری نہیں کی گئی اور ایک لاکھ 60 ہزار درخواستوں میں صرف 3 ہزار کی یکسوئی کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ دیگر درخواست گذار چھوٹے کاروبار شروع کرنے کیلئے بینک سے قرض حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت نے سبسڈی کی رقم میں اضافہ کا اعلان کردیا لیکن اقلیتی فینانس کارپوریشن اس اسکیم پر عمل آوری میں ناکام ہوچکا ہے۔ آج بھی درخواست گذار ، کارپوریشن کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم بھی کارپوریشن کے تحت ہے جس پر گزشتہ سال عمل آوری نہیں کی گئی۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ اس لئے نہیں کیا کہ عہدیدار بھاری رقومات اپنے چیمبرس کی سہولتوں پر خرچ کردیں۔ بجٹ کا مقصد اسکیمات پر موثر عمل آوری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذمہ دار اپنی پُرتعیش چیمبرس کے ذریعہ غریبوں کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دنوں کارپوریشن کے نئے صدرنشین کے لئے چیمبر کی تیاری کا آغاز ہوا۔ اس بہانے مینیجنگ ڈائریکٹر کے چیمبر کی تزئین نو کا کام بھی شروع کیا گیا اور دونوں چیمبرس اس قدر آرام و آسائش پر مبنی ہیں کہ شاید ہی چیف منسٹر کا چیمبر بھی اس قدر مہنگا ہو۔ پرگتی بھون میں چیف منسٹر کے دو علیحدہ چیمبرس ہیں اور دونوں بھی آرام و آسائش کے اعتبار سے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دو ذمہ داروں کے چیمبرس سے پیچھے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بیک وقت لاکھوں روپئے خرچ کئے گئے اور ایک مرحلہ پر بلس کی منظوری پر تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ کارپوریشن کے عہدیدار کی ورزش کیلئے 2 لاکھ روپئے مالیتی عصری مشین خریدی گئی اور اس بل کو منظوری کیلئے صدرنشین کے پاس پیش کیا گیا تو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے منظوری سے انکار کردیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کارپوریشن کے کس مد سے یہ تعیشات پوری کی جارہی ہیں اور دفتر میں ایکسرسائز مشین کا کیا تعلق؟ ہوسکتا ہے یہ مشین عہدیدار کے گھر کے استعمال کیلئے خریدی گئی تھی جس کی ادائیگی کارپوریشن سے کی جارہی ہے۔ اس بارے میں جب کارپوریشن کے ذمہ داروں سے ربط قائم کیا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ دونوں چیمبرس پر کئی لاکھوں روپئے کا خرچ آیا ہے، تاہم انہوں نے کس مد سے یہ رقم خرچ کی جارہی ہے، اس کے انکشاف سے گریز کیا۔ بتایا گیا ہے کہ صدرنشین سے زیادہ سہولت بخش مینیجنگ ڈائریکٹر کا چیمبر ہے لہذا اب اس چیمبر پر صدرنشین کی نظریں ہیں۔ کارپوریشن میں یوں بھی معاملات ٹھیک نہیں چل رہے ہیں۔ حالیہ دنوں کارپوریشن کے بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں بتایا جاتا ہے کہ بعض مخصوص ملازمین کو ترقی دینے کیلئے ایجنڈہ میں شامل کیا گیا، تاہم حکومت کے ایک ذمہ دار کو جب اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے اس متنازعہ تجویز کو واپس لینے کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے سیکریٹری سے قربت رکھنے والے ایک شخص کے دو قریبی رشتہ دار، کارپوریشن میں ملازم ہیں اور وہ آؤٹ آف ٹرن یعنی قواعد کے برخلاف ترقی دلانے کے خواہاں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کارپوریشن کے یہ تنازعات کس حد تک آگے بڑھیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان سرگرمیوں کے بارے میں چیف منسٹر کے دفتر کو اطلاع دی جاچکی ہے اور انہوں نے حکومت کے مشیر اے کے خاں کو اقلیتی اداروں پر گہری نظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT