Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط قرض فراہمی اسکیمات میں سست روی

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط قرض فراہمی اسکیمات میں سست روی

درخواست گذاروں کا بے چینی سے انتظار ، چیرمین و ایم ڈی کا کارپوریشن میں عیش
حیدرآباد۔/13 اپریل، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کے اداروں میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جہاں سے کئی معاشی اور فنی ترقی سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری کی جاتی ہے۔ اگر یہ ادارہ اقلیتوں کی توقعات پر پورا اُترنے کے بجائے صرف اپنی ضروریات کی تکمیل کی فکر کرے تو یقیناً اس ادارہ کے قیام کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں بینکوں سے مربوط قرض کی فراہمی اسکیم اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم پر عمل آوری کی رفتار کس حد تک سُست ہے اس بارے میں ہر کوئی واقف ہے۔ سبسیڈی کی اجرائی سے متعلق ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد درخواستوں میں گذشتہ دو سال میں صرف 3000 کی یکسوئی کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ ہزاروں درخواست گذار سبسیڈی کی اجرائی کے سلسلہ میں کارپوریشن کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کارپوریشن کے نئے صدرنشین کے تقرر کے بعد چیمبرس کی حالت یکایک بدل چکی ہے۔ صدرنشین اور منیجنگ ڈائرکٹر دونوں کے چیمبرس کی تزئین نو اور آرام و آسائش پر بتایا جاتا ہے کہ لاکھوں روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ کسی بھی وزیر حتیٰ کہ چیف منسٹر کا چیمبر بھی اس قدر آرام دہ نہیں ہوگا جتنا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دو ذمہ داروں کے چیمبرس تیار ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چیمبرس کی تیاری کے بعد بلز کی منظوری نے تنازعہ کی شکل اختیار کرلی کیونکہ بل میں وزرش کیلئے 2 لاکھ روپئے کے مشین کی خریدی کو بھی شامل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین نے اس بل کو منظوری دینے سے انکار کردیا۔ یہ مشین آخر کس کے لئے اور کیوں خریدی گئی اس پر راز کے پردے ہیں۔ کارپوریشن کے ذمہ داروں نے دونوں چیمبرس کی تزئین نو پر بھاری اخراجات کا اعتراف کیا تاہم انہوں نے کس مد سے یہ رقم خرچ کی ہے اس کے انکشاف سے انکار کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارپوریشن کے دیگر معاملات میں بھی کئی تنازعات چل رہے ہیں اور اس سلسلہ میں جب چیف منسٹر کے دفتر تک شکایات پہنچیں تو حکومت کے مشیر اے کے خاں کو اس ادارہ پر نظر رکھنے کی ذمہ داری دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے اجلاس میں بعض مخصوص ملازمین کو قواعد کے برخلاف ترقی دینے کی تجویز ایجنڈہ میں رکھی گئی تھی لیکن حکومت کی مداخلت پر اسے واپس لینا پڑا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سے قربت رکھنے والے ایک شخص کے دو قریبی رشتہ دار کارپوریشن میں ملازم ہیں اور ان میں سے ایک کو جنرل منیجر کے عہدہ پر فائز کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لاکھوں روپئے کے خرچ کے ذریعہ چیمبرس کی تزئین نو کے سلسلہ میں بھی سکریٹری سے قربت رکھنے والے ریٹائرڈ ملازم کا اہم رول ہے۔

TOPPOPULARRECENT