Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی پر پیر کو اجلاس

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی پر پیر کو اجلاس

وجئے بینک سے رقم کی بازیابی پر رپورٹ کی طلبی ، محمد محمود علی کی شرکت
حیدرآباد۔13 اکٹوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی اور اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اجلاس بروز پیر 16 اکٹوبر کو سکریٹریٹ میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں توقع ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے 2013ء میں پیش آئے 58 کروڑ روپئے کے اسکام کی تحقیقاتی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اس کے علاوہ وجئے بینک سے اس خطیر رقم کی بازیابی کے سلسلہ میں عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی جائے گی۔ واضح رہے کہ 2013ء میں اقلیتی فینانس کارپوریشن میں 58 کروڑ روپئے کی رقم کے ڈپازٹ کا اسکام منظر عام پر آیا تھا اور اس وقت کے سکریٹری اقلیتی بہبود دانا کشور نے اسکام کو بے نقاب کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ اسکام کی جانچ سی بی سی آئی ڈی کے حوالے کی گئی اور دو عہدیداروں کو اسکام کے سلسلہ میں معطل کیا گیا۔ رقم کی بازیابی اور تحقیقات کے سلسلہ میں عہدیداروں کی سست روی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 4 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک وجئے بینک سے یہ رقم حاصل نہیں کی گئی اور بتایا جاتا ہے کہ سیول کورٹ میں کارپوریشن کے حق میں فیصلے کے باوجود کارپوریشن کے عہدیداروں نے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ دوسری طرف سی بی سی آئی ڈی نے ابھی تک تحقیقات مکمل کرتے ہوئے چارج شیٹ عدالت میں داخل نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رقم کی بازیابی اور تحقیقات دونوں معاملات میں عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کے نتیجہ میں معطل کیے گئے دونوں عہدیدار ٹیکنیکل بنیادوں پر بحال ہوچکے ہیں۔ اس قدر خطیر رقم کے حصول میں عہدیداروں کی عدم دلچسپی باعث حیرت ہے اور اس معاملہ میں ڈپٹی چیف منسٹر نے سخت نوٹ لیتے ہوئے جائزہ اجلاس میں اس مسئلہ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اور حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور کے علاوہ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی موجودگی میں اسکیام کی تحقیقات اور 58 کروڑ روپئے کے حصول کے سلسلہ میں تازہ ترین موقف معلوم کیا جائے گا۔ اگر بینک سے یہ رقم حاصل ہوتی ہے تو کارپوریشن کئی اسکیمات پر عمل آوری کر پائے گا۔ اقلیتی امیدواروں کے لیے بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم پر گزشتہ دو برسوں میں عمل آوری نہیں کی جاسکی کیوں کہ کارپوریشن کا ماننا ہے کہ حکومت نے درکار بجٹ جاری نہیں کیا ہے۔ اگر 58 کروڑ روپئے کارپوریشن کو وجئے بینک کو واپس مل جائیں تو سبسیڈی کے سلسلہ میں ہزاروں امیدواروں کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلی سطحی جائزہ اجلاس میں جن نکات کو شامل کیا گیا ان میں 2014ء سے جاریہ مالیاتی سال تک قرض اور سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری کی تفصیلات شامل ہیں۔ عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مدت کے دوران موصولہ درخواستوں، منظورہ درخواستوں اور رقم کی اجرائی سے متعلق تفصیلات پیش کریں۔ 2014-15 سے جاریہ مالیاتی سال تک ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ خواتین میں سلائی مشین کی تقسیم، کمپیوٹر سنٹر کا قیام اور دیگر نئی اسکیمات کی تجاویز پر اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر نے حکومت کو دو تجاویز پیش کیے ہیں جن میں اون یور کیاب اسکیم اور مائیکرو فینانسنگ اسکیم شامل ہیں۔ مائیکرو فینانس اسکیم کے تحت رضاکارانہ تنظیموں کے تعاون سے چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو 25 ہزار روپئے تک کا سامان فراہم کیا جائے گا اور انہیں تجارت کے بعد یہ رقم واپس کرنی ہوگی۔ این جی اوز کو اس اسکیم پر عمل آوری کے لیے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے 16 اکٹوبر کو ڈائرکٹریٹ آف میناریٹی ویلفیر کی اسکیمات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکالرشپ کی بازادائیگی، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم، پری میٹرک اسکالرشپ اور ایم ایس ڈی پی اسکیم پر عمل آوری کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت گزشتہ تین برسوں میں منظورہ درخواستوں اور زیر التوا درخواستوں کی تفصیل حاصل کی جارہی ہے۔ محمود علی نے کہا کہ اقلیتی اداروں کے جائزہ اجلاس کی تکمیل کے بعد وہ وزیر فینانس ای راجندر کو اقلیتی بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں نمائندگی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT