Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان

ابھی تک ایک اسکیم پر بھی عمل آوری نہیں‘ عہدیداران جواب دینے سے قاصر ‘ چیف منسٹر کا اظہار افسوس
حیدرآباد ۔ 17۔اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ  نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کارپوریشن کی اسکیمات پر عمل آوری میں سست روی پر حیرت کا اظہار کیا۔ باوثوق  ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اقلیتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات کے بارے میں معلومات حاصل کی ۔ جاریہ مالیاتی سال کارپوریشن سے اسکیمات کی عمل آوری کا سلسلہ عملاً ٹھپ ہوچکا ہے ۔ ابھی تک ایک اسکیم پر بھی عمل آوری کا آغاز نہیں کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے کارپوریشن کی اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن کی جانب سے استفادہ کنندگان کے بارے میں جو اعداد و شمار پیش کئے جاتے ہیں ، انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین نے چیف منسٹر کو واقف کرایا کہ اسکیمات پر عمل آوری کا سلسلہ موقوف ہوچکا ہے اور عہدیدار اس سلسلہ میں کچھ بھی جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اقلیتی قائدین یہ بھی شکایت کی کہ حکومت نے بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم میں مزید رعایتوں کا اعلان کرتے ہوئے سبسیڈی کی شرح میں اضافہ کیا لیکن کارپوریشن کی جانب سے ابھی تک امیدواروں کا انتخاب نہیں کیا گیا ۔ ایک لاکھ سے زائد درخواستیں کارپوریشن کو داخل کی گئیں لیکن ابھی تک امیدواروں کو کارپوریشن نے انٹرویو کیلئے طلب نہیں کیا اور نہ ہی درخواستوں کی جانچ کی گئی ۔ حکومت نے ہدایت دی تھی کہ ایک لاکھ تک کی درخواستوں کی فوری طور پر یکسوئی کردی جائے لیکن حیرت ہے کہ کارپوریشن نے اس ہدایت پر عمل آوری نہیں کی۔ کارپوریشن کی دیگر اسکیمات میں ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم اہمیت کی حامل ہے جس پر گزشتہ دو برسوں سے عمل آوری نہیں ہوئی ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے حیدرآباد و رنگا ریڈی کے 1750 غریب افراد کو آٹو رکشا فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس اسکیم کی تکمیل نہیں کی گئی ۔ پہلے مرحلہ میں 500 افراد میں آٹو رکشا تقسیم کئے گئے جبکہ دیگر امیدوار فینانس کارپوریشن کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر اور دیگر عہدیداروں کو اقامتی اسکولس کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ لہذا ان کی ساری توجہ اقامتی اسکولس کی سرگرمیوں پر ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے علحدہ عہدیداروں کا تقرر کرے یا پھر موجودہ عہدیداروں سے اقامتی اسکولس کی ذمہ داری واپس لے لے تاکہ اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ہوسکے ۔ اقلیتی اداروں میں فینانس کارپوریشن وہ واحد ادارہ ہے جس میں اقلیتوں کی معاشی ترقی سے متعلق اسکیمات موجود ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT