Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی قائدین کو عید کے تحفے ، سرکاری اداروں پر تقررات کی تیاری

اقلیتی قائدین کو عید کے تحفے ، سرکاری اداروں پر تقررات کی تیاری

عوامی نمائندے اور صدور نشین کارپوریشن اضلاع کے دورہ پر روانہ ، ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ سے مشاورت
حیدرآباد۔17 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کے سرکاری اداروں میں اقلیتی قائدین کی نامزدگی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد پارٹی کے عوامی نمائندے اور کارپوریشنوں کے صدور نشین آج سے اپنے الاٹ کردہ اضلاع کے دورے پر روانہ ہوچکے ہیں۔چیف منسٹر پارٹی کے اقلیتی قائدین کو عید کے تحفے کے طور پر سرکاری اداروں میں تقررات کی تیاری کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے مسلم ارکان قانون ساز کونسل، پانچ کارپوریشنوں کے صدور نشین، صدر ریاستی اقلیتی سل اور ڈپٹی میئر گریٹر حیدرآباد کے ہمراہ سرکاری اداروں میں مسلمانوں کے نمائندگی میں اضافہ کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے پاس آج صبح ناشتے کے بعد عوامی نمائندے اور صدور نشین اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے روانہ ہوئے۔ کل شام چیف منسٹر کے اجلاس میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما رائو، رکن پارلیمنٹ ونود کمار اور کونسل میں چیف وہپ ای راجیشور ریڈی بھی موجود تھے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ عوامی نمائندے اور صدور نشین اضلاع میں وزراء، ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ سے مشاورت کے بعد ایسے اقلیتی قائدین کی فہرست تیار کریں گے جو 2001ء سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔ ان قائدین کو ضلعی سطح یا پھر ریاستی سطح کے اداروں میں نمائندگی دی جائے گی۔ چیف منسٹر کو 24 اگست تک ناموں کی فہرست پیش کرنی ہے جس کے بعد تقررات کا عمل شروع ہوگا۔ چیف منسٹر نے فہرست کی تیاری کے بعد کے ٹی راما رائو کے ساتھ مشاورت کے ذریعہ تقررات کی ہدایت دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم، صدرنشین سٹ ون عنایت علی باقری اور ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین کو گریٹر حیدرآباد کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین کو کریم نگر اور عادل آباد کی ذمہ داری دی گئی۔ صدرنشین کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ یوسف زاہد کو ورنگل، رکن کونسل محمد فرید الدین کو میدک، رکن کونسل محمد فاروق حسین رنگاریڈی، صدرنشین نیٹ کیاپ ایم اے علیم کو نظام آباد، صدرنشین انڈسٹریئل ڈیولپمنٹ کارپوریشن برہان بیگ کو کھمم اور نلگنڈہ کے اقلیتی قائد فرید الدین اور یوسف زائد کو نلگنڈہ ضلع کی ذمہ داری دی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ ضلعی سطح کے سرکاری اداروں میں پانچ اقلیتی نمائندوں کو شامل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں جن میں سے 4 کا تعلق مسلم اقلیت اور ایک کا عیسائی طبقے سے ہوگا۔ ریاستی سطح کے سرکاری اداروں میں کم سے کم 2 مسلم نمائندے شامل کئے جائیں گے۔ اس طرح ہر سطح پر مسلمانوں کی سرکاری اداروں میں نمائندگی یقینی ہوجائے گی۔ چیف منسٹر نے بتایا جاتا ہے کہ کارپوریشنوں کے صدور نشین کی کارکردگی کے بارے میں استفسار کیا اور کہا کہ انہیں نامزد کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خود کو محدود کرلیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں تک حکومت کی اسکیمات کو پہنچائیں اور نہ صرف اپنی بلکہ اپنے ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقلیتی اداروں کی کارکردگی پر مختلف ذرائع سے رپورٹ طلب کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ نئی اسکیمات کے آغاز کا اشارہ دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے حج کمیٹی پر حج سیزن کے بعد تقررات کا اشارہ دیا اور کہا کہ حج کمیٹی مکمل طور پر غیر سیاسی رکھی جائے گی۔ صدر اور ارکان کے تقرر میں غیر سیاسی افراد کو ترجیح دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے اردو اکیڈیمی کی تشکیل سے قبل دانشور اور ماہرین کے ساتھ اکیڈیمی کی ترقی کے بارے میں منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکیڈیمی کے ذریعہ اردو کی ترقی اور فروغ کی مزید اسکیمات کے آغاز کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اکیڈیمی کی موجودہ اسکیمات محدود ہیں لہٰذا ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ تشکیل سے قبل اکیڈیمی کی ترقی کا منصوبہ تیار کریں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے ٹی نیوز (اردو) کے انچارج خواجہ قیوم انور کو قانون ساز کونسل کی رکنیت کا تیقن دیا۔ اس کے علاوہ انفارمیشن کمشنر اور پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندگی کا وعدہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک ریٹائرڈ انجینئر کو انفارمیشن کمشنر کے عہدے پر نامزد کرنے پر غور کیا گیا تاہم ان کی زائد عمر کے باعث انہیں کسی اور عہدے کے لیے غور کیئے جانے کا امکان ہے۔ بعض قائدین نے اقلیتی بہبود کے اداروں کے عہدیداروں کی شکایت کی ہے اور کہا کہ وہ پارٹی قائدین کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔ اس شکایت پر چیف منسٹر نے کہا کہ عہدیداروں کا معاملہ مجھ پر چھوڑدیں۔ کے سی آر نے اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کی کارکردگی کی ستائش کی، خاص طور پر اے کے خان اور شفیع اللہ کی جانب سے اسکولوں کو کامیابی سے چلانے کی تعریف کی۔ انہوں نے صدور نشین سے کہا کہ وہ سوسائٹی کے امور میں مداخلت سے گریز کریں۔

TOPPOPULARRECENT