Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی مالیاتی کارپوریشن پر حکومت کی کار کردگی مایوس کن محکمہ اقلیتی بہبود میں تقررات پر زور، قائد مقننہ مجلس کا ایوان میں خطاب

اقلیتی مالیاتی کارپوریشن پر حکومت کی کار کردگی مایوس کن محکمہ اقلیتی بہبود میں تقررات پر زور، قائد مقننہ مجلس کا ایوان میں خطاب

حیدرآباد /7 اکتوبر (سیاست نیوز) قائد مقننہ مجلس اکبرالدین اویسی نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی کے لئے حکومت سنجیدہ ہے، مگر اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ اسمبلی میں بہبود کے موضوع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر اویسی نے کہا کہ مختلف کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹ سے انکشاف ہوچکا ہے کہ مسلمان ایس سی طبقات سے بھی پسماندہ ہیں، لہذا حکومت میں ایس سی طبقات کو جو مراعات حاصل ہیں، وہ تمام مراعات بالخصوص تعلیمی مراعات اقلیتی طلبہ کو فراہم کیا جائے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پروفیشنل کورسیس کے اقلیتی طلبہ کی مکمل فیس ادا کی جائے اور اوقافی جائدادوں کا تحفظ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی تقسیم سے تلنگانہ وقف بورڈ مالی بحران کا شکار ہوجائے گا، لہذا تلنگانہ وقف بورڈ کو مالی طورپر مستحکم کرنے کے لئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ سڑکوں کی توسیع اور میٹرو ٹرین کی تعمیر کے سبب وقف جائدادوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا معاوضہ ادا کرے۔ انھوں نے بتایا کہ معاوضہ کی رقم تقریباً 150 کروڑ روپئے ہے، جسے تلنگانہ وقف بورڈ کو فوراً ادا کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ حج ہاؤس کا بھی تنازعہ ہے، جب کہ اراضی تلنگانہ کی ہے اور عمارت کی تعمیر پر خرچ کی گئی رقم درگاہ حضرت اسحاق شاہ مدنی کی زمین فروخت کرکے حاصل کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بینکرس کے ایس ایل بی سی اجلاس میں اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے کسی عہدہ دار کو طلب نہ کرنے اور ریاستی وزیر زراعت کی جانب سے اقلیتوں کو قرض نہ دینے کی بینکرس وجوہات طلب نہ کرنے پر اعتراض کیا اور گریٹر حیدرآباد کے حدود میں صرف ایک ہزار آٹوز تقسیم کے فیصلہ کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے دو تا تین ہزار آٹوز تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے حیدرآباد میں غریب بچوں کے لئے ایک یتیم خانہ تعمیر کرنے، شمس آباد میں حج ہاؤس تعمیر کرنے، سرکاری ملازمتوں کے تقررات کے لئے اردو میں امتحانات منعقد کرنے اور تلنگانہ میں اردو کے ساتھ مکمل انصاف کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے وقف بورڈ میں 40 ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات سے استفادہ پر حیرت ظاہر کی اور آلیر و عطا پور انکاؤنٹر کی ریٹائرڈ یا برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عدالت کی جانب سے قصوروار قرار دینے سے قبل ہی پولیس نے مسلم نوجوانوں کو قتل کردیا۔

TOPPOPULARRECENT