Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو بہتر اسکیمات کے ذریعہ مؤثر بنایا جائے

اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو بہتر اسکیمات کے ذریعہ مؤثر بنایا جائے

کارپوریشن کی کارکردگی کی موجودہ حالت پرچیف منسٹر کے سی آر کا عدم اطمینان
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اگسٹ (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی بہتر بنانے اور اسکیمات پر موثر عمل آوری کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اقلیتی امور کے اپنے سکریٹری اور حکومت کے مشیر برائے امور کے ساتھ مختلف اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کارپوریشن کی موجودہ حالت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کارپوریشن کے ذریعہ غریب مسلمانوں کو قرض کی فراہمی اور نوجوانوں کو پیشہ ورانہ کورسس میں ٹریننگ کے ذریعہ روزگار کے حصول کے قابل بنانے میں کارپوریشن کی سست رفتاری پر ناراضگی جتائی اور عہدیداروں سے کہا کہ دیگر طبقات کے کارپوریشنوں کی طرح اقلیتی فینانس کارپوریشن کو بھی متحرک کیاجائے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کا یہ احساس تھا کہ نئی ریاست تلنگانہ نے اقلیتوں کے لئے مختلف اسکیمات کے آغاز کے لئے اقلیتی فینانس کارپوریشن موزوں ادارہ ہے لیکن کارپوریشن اپنی وموجودہ اسکیمات پر موثر عمل آوری میں ناکام ہوچکا ہے۔ لہذا نئی اسکیمات موجودہ کارپوریشن کے ذریعہ شروع کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ کارپوریشن کو کارکرد بنانے کیلئے حکمت عملی تیار کریں اور حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے اقلیتی فینانس کارپوریشن میں بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی اجرائی اسکیم اور ٹریننگ ایمپلائیمنٹ اسکیم متاثر ہوئی ہے ۔ حکومت اگرچہ بجٹ کی اجرائی کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن اسکیمات کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔ اسی دوران ریاستی اسمبلی کی پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کارپوریشن کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں اس بات کے انکشاف ہوا کہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی ا سکیم پر گزشتہ دو سال سے عمل نہیں کیا گیا ۔

کارپوریشن 2015-16 ء میں اس اسکیم کے تحت موصولہ درخواستوں کی یکسوئی میں مصروف ہیں۔ 2016-17 ء اور جاریہ سال یعنی 2017-18 ء کے لئے اس اسکیم کے تحت درخواستیں طلب نہیں کی گئی ہے۔ 2015-16 میں ایک لاکھ 53 ہزار 906 درخواستیں موصول ہوئی جس کے لئے 2670 کروڑ روپئے کی ضرورت تھی۔ حکومت نے 2016-17 ء میں بینکیبل اسکیم کے تحت 136 کروڑ 50 لاکھ روپئے مختص کئے ، جس میں سے دو اقساط میں 69 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ کارپوریشن نے 8436 افراد میں سبسیڈی کے طور پر 68.99 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ کارپوریشن کے ذرائع نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت پہلے مرحلہ میں دو لاکھ روپئے تک کی سبسیڈی کی درخواستوں کی یکسوئی کی جارہی ہے تاکہ زیادہ افراد کو فائدہ ہو۔ اس اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپئے تک کی سبسیڈی کی گنجائش ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ صرف ایسی درخواستوں کیلئے سبسیڈی جاری کی جارہی ہیں، جنہیں قرض جاری کرنے سے بینک نے اتفاق کرلیا۔ حکومت نے نئی اسکیم کے تحت ایک لاکھ روپئے تک 80,000 کی سبسیڈی مقرر کی ہے جبکہ دو لاکھ روپئے کیلئے 70 فیصد سبسیڈی دی جائے گی۔ اسی دوران صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین نے بتایا کہ جاریہ مالیاتی سال حکومت نے بینکیبل اسکیم کے تحت 136 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں جس میں سے 20 کروڑ جلد ہی جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے غریب مسلمانوں کو خود روزگار اسکیمات سے وابستہ کرنے کیلئے بینک کے بغیر ہی راست طور پر کارپوریشن سے چھوٹے قرض جاری کرنے کی تجویز ہے ۔ مائیکرو فینانسنگ کی اس اسکیم کے تحت غریب مسلمانوں کو چھوٹے کاروبار کے آغاز کے لائق بنایا جائے گا۔ بینک سے قرض حاصل کرنے کیلئے غریبوں کو دشواریوں کا سامنا ہے ، لہذا ایک معقول رقم کارپوریشن سے راست طور پر جاری کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT