Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی سبسیڈی اسکیم پر بھی پولیس تحقیقات کی نظر

اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی سبسیڈی اسکیم پر بھی پولیس تحقیقات کی نظر

محمد محمود علی کی ہدایت پر اے سی بی کا عمل ، بروکرس کی نشاندہی ، عہدیداروں کے خلاف بھی سخت کارروائی
حیدرآباد۔/12نومبر،( سیاست نیوز) ’ شادی مبارک‘ اسکیم میں مبینہ بے قاعدگیوں کی جاری تحقیقات کے دائرہ کار میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط سبسیڈی فراہمی اسکیم کو شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو کی خصوصی ٹیم ’ شادی مبارک‘ اسکیم کے بارے میں موصولہ شکایات کی جانچ کررہی ہے اور اس نے حیدرآباد اور رنگاریڈی کے علاوہ اضلاع میں بھی اقلیتی بہبود کے دفاتر پہنچ کر اسکیم کے استفادہ کنندگان کی تفصیلات حاصل کی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں نے شادی مبارک اسکیم میں بے قاعدگیوں کا جائزہ لینے کیلئے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کی قیادت میں ہر ضلع کیلئے ایک ٹیم تشکیل دی ہے اور ابتدائی تحقیقات میں درمیانی افراد کے رول اور درخواست گذاروں کے اکاؤنٹ میں ایک سے زائد مرتبہ رقم کی منتقلی کا پتہ چلا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی اسکیم کو بھی تحقیقات کے دائرہ میں شامل کرنے کی تجویز ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد اس سلسلہ میں اینٹی کرپشن بیورو کو اس اسکیم کی تحقیقات کیلئے سفارش کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض گوشوں کی جانب سے اس تجویز کی شدت سے مخالفت کی جارہی ہے تاہم حکومت شہر اور اضلاع سے موصولہ شکایات کی بنیاد پر جانچ کے حق میں ہے تاکہ بینکوں اور عہدیداروں کی ملی بھگت کو بے نقاب کیا جاسکے۔ شہر سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں نے بھی اس اسکیم میں بے قاعدگیوں کی شکایت کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے حال ہی میں عہدیداروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شادی مبارک کے علاوہ دیگر اسکیمات کو تحقیقات کے دائرہ میں شامل کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کا صحیح استعمال ہو اور حقیقی مستحقین تک فوائد پہنچیں۔ ذرائع کے مطابق ’شادی مبارک‘ کے علاوہ آٹو رکشا اسکیم میں درمیانی افراد کے رول کی شکایت اور بعض بروکرس کی نشاندہی کرتے ہوئے اے سی بی عہدیداروں کو نمائندگی کی گئی جس کے بعد اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیدار درمیانی افراد کا تعاقب کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں حج ہاوز اور شہر میں واقع اقلیتی بہبود کے دفاتر میں بروکرس کی تعداد گھٹ چکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آٹو رکشا اسکیم کے سلسلہ میں عوام سے رقومات کا مطالبہ کرنے والے ایک شخص کا فون نمبر حاصل کرتے ہوئے جانچ کی گئی۔ اے سی بی عہدیدار اس طرح کے اور بھی بروکرس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ بروکرس اور بعض عہدیداروں کی ملی بھگت کا پتہ چلانا چاہتے ہیں جن کے بغیر بے قاعدگی ممکن نہیں ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اعتراف کیا کہ اسٹاف کی کمی کے باعث شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی یکسوئی کی رفتار سست ہوچکی ہے۔ حالیہ عرصہ میں ریاست بھر میں زیر التواء درخواستوں کی تعداد 5000 تک پہنچ گئی جن میں 2000درخواستیں حیدرآباد میں ہیں۔ درخواستوں کی جانچ کیلئے حیدرآباد اور رنگاریڈی میں اسٹاف کی سخت کمی ہے۔ اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی سے 10ملازمین کو دو ماہ کیلئے دونوں اضلاع میں الاٹ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن آج تک بھی یہ ملازمین رجوع نہیں ہوئے۔ حیدرآباد ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں صرف ایک سپرنٹنڈنٹ اور ایک سینئر اسسٹنٹ مستقل ملازمین کے طور پر ہیں جبکہ دیگر دو ملازمین کا تعلق فینانس کارپوریشن سے ہے اور دیگر دو آؤٹ سورسنگ پر کام کررہے ہیں۔ اسی طرح رنگاریڈی آفس میں سپرنٹنڈنٹ، یو ڈی سی اور ایل ڈی سی کے 3 عہدے مستقل ملازمین سے پُر ہیں۔ اس طرح دونوں دفاتر میں ملازمین کی کمی اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ کا باعث بن چکی ہے۔ تلنگانہ کے 7اضلاع میں مستقل ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس نہیں ہیں جن کے تقررات کیلئے بارہا تجاویز پیش کی گئیں لیکن آج تک دیگر محکمہ جات سے ڈپٹی کلکٹر کے رینک کے عہدیداروں کو الاٹ نہیں کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT