Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / اقلیتی محکمہ جات کی تقسیم آخر کب ؟

اقلیتی محکمہ جات کی تقسیم آخر کب ؟

مرکز دونوں تلگو ریاستوں کو خوش رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا

محمد نعیم وجاہت
تقسیم ریاست کے دو سال کی تکمیل کے باوجود ہائیکورٹ ، 6 محکمہ جات اور محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی تقسیم کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔ بالخصوص ہائی کورٹ اور دہلی میں موجود اے پی بھون کی تقسیم تنازعہ کا شکار بن گئی ہے جس سے دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس ایک دوسرے کے سامنے آگئے ہیں۔ دونوں کے درمیان راضی فارمولہ اختیار کرنے میں گورنر نرسمہن بے بس ہوگئے ہیں۔ تلنگانہ کے وکلاء نے ہائیکورٹ کی تقسیم کیلئے احتجاجی مہم شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں شدت پیدا ہوگئی تلنگانہ کے وکلاء اور عوام کے موڈ کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے دہلی کے جنتر منتر پر وزراء، ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے ساتھ احتجاجی دھرنا منظم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا تھا جس سے وہ بعد میں دستبردار ہوگئے۔ تلنگانہ وکلاء کے احتجاج نے ایک بار پھر علیحدہ تلنگانہ تحریک کی یاد تازہ کردی تھی۔ تلنگانہ کی تمام سیاسی جماعتیں خاص کر تلنگانہ تلگودیشم پارٹی آندھراپردیش میں تلگودیشم کی حکومت ہونے کے باوجود تلنگانہ میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے پارٹی ہائی کمان کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر تلنگانہ وکلاء کے احتجاج کی تائید کیلئے مجبور ہوگئی۔ یہ اور بات ہے کہ تلنگانہ وکلاء کی تائید کرنے پر تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کے ورکنگ پریسڈنٹ ریونت ریڈی کو چیف منسٹر آندھراپردیش چندرابابو نائیڈو کے فرزند و جنرل سکریٹری قومی تلگودیشم پارٹی نارا لوکیش سے پھٹکار سننے کو ملی۔ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد مختلف محکمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ آندھرا کے بیشتر سرکاری ملازمین آندھراپردیش منتقل ہوگئے ہیں۔ تاہم ہائی کورٹ کی تقسیم کا عمل ہنوز شروع نہیں ہوا ہے۔ ہائی کورٹ کی تقسیم سے قبل عدلیہ میں تقررات ہورہے ہیں اور آندھراپردیش کے ججس اور عدالتی عملے کو دونوں ریاستوں میں کسی ایک ریاست کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جس سے تلنگانہ کے ججس اور عدالتی عملہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور جن آندھرا کے عملے اور ججس نے تلنگانہ کانتخاب کیا ہے، ان کا حال ہی میں تقرر ہوا ہے۔ آئندہ 20 تا 30 سال تک یہی ججس اور عملہ تلنگانہ عدالت کے اہم عہدوں پر فائز رہے گا جس کے خلاف تلنگانہ کے وکلاء نے احتجاجی مہم شروع کی ہے۔ تحریک میں شدت پیدا ہوتے دیکھ کر تلنگانہ کے ججس اور عدالتی عملہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنے میں شامل ہوگیا۔ کارگذار چیف جسٹس بابا صاحب بھوسلے نے پہلے تین ججس کو معطل کردیا جس کے بعد احتجاج میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ کارگذار چیف جسٹس ہائیکورٹ نے احتجاجی ججس اور عملے کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزید 10 ججس کو معطل کردیا کے بعد سیاسی ماحول گرم ہوگیا۔ ججس اور عدالتی عملہ نے 15 دن تک احتجاج کیا جس پر گورنر نرسمہن نے مداخلت کی اور کارگذار چیف جسٹس کو راج بھون طلب کرکے بات چیت کی۔ ججس اور عدالتی عملے سے کارگذار چیف جسٹس نے مذاکرات کئے اور معطل کردہ ججس اور عدالتی عملہ کو بحال کرنے کا تیقن ملنے کے بعد ججس اور عدالتی عملہ دوبارہ کام پر رجوع ہوگیا۔

احتجاج کی اہم وجہ یہ ہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے لئے جملہ 916 ججس کو مختص کیا گیا۔ جس میں 40 اور 60 حصے کے پیش نظر آندھراپردیش کے لئے 674 اور تلنگانہ کے لئے 242 ججس مختص کئے گئے۔ ججس کو دونوں ریاستوں میں کسی ایک ریاست کا انتخاب کرنے کا اختیار دینے کی وجہ سے تلنگانہ کے 242 ججس میں 128 آندھرا کے ججس نے تلنگانہ کا انتخاب کیا۔ ساتھ ہی دونوں ریاستوں کے 1468 عدالتی عملے کی گنجائش ہے جس میں آندھراپردیش کے لئے 1079 مختص کئے گئے اور تلنگانہ کے لئے 389 عملہ مختص کیا گیا۔ ہائیکورٹ میں جملہ 49 ججس کی گنجائش ہے جس میں 25 ججس کا تقرر کیا گیا۔ جس میں آندھراپردیش کے 21 ججس اور تلنگانہ کے صرف 4 ججس شامل ہیں۔ جس کے خلاف تلنگانہ کے ججس اور وکلاء نے احتجاجی مہم شروع کی تھی۔ تاہم ججس اور عدالتی عملے کے ڈیوٹی پر رجوع ہونے سے وکلاء کے شروع کردہ احتجاج کو تھوڑا دھکا ضرور پہونچا ہے۔ تلنگانہ کے وکلاء یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ججس اور عدالتی عملہ احتجاج میں کیوں شامل ہوا اور احتجاج سے کیوں دستبردار ہوگیا۔

تلنگانہ ججس اور وکلاء کے احتجاج میں مسلم وکلاء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق تلنگانہ میں وکلاء کی جملہ تعداد 60 ہزار ہے جس میں مسلم وکلاء کی تعداد 16,000 ہے۔ ماہ مئی کے دوران عدالتی تعطیلات تھیں۔ اس کے بعد اسکولس کی کشادگی اور ماہ رمضان میں احتجاج کی وجہ سے بیشتر مسلم وکلاء کی معاشی حالت تنگ ہوگئی باوجود اس کے مسلم وکلاء نے ہار نہیں مانی اور وکلاء برادری کی جانب سے دیئے گئے تمام احتجاجی پروگرامس، چلو ہائیکورٹ، زنجیری بھوک ہڑتال، خاموش احتجاج، ہاتھوں میں ہتھکڑی احتجاج، سڑکوں پر پکوان، آندھرا ججس کو مکتوب روانہ کرنے کے احتجاج، آندھرا ججس کے ارتھی جلوس اور چلو اندرا پارک احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تلنگانہ وکلاء کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف سماج کے مختلف وکلاء کے ساتھ ہر محاذ پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ باوجود انھیں وکلاء برادری کی جانب سے شاباشی کم اور تحریک میں حصہ نہ لینے کی شکایت زیادہ سننے کو ملی۔ تلنگانہ کے مسلم وکلاء معاشی مسائل کے باوجود احتجاج کا برابر حصہ بنے رہے۔
ہائیکورٹ کی تقسیم نہ ہونے کے لئے دو نائیڈو ذمہ دار ہیں۔ ایک نائیڈو چیف منسٹر آندھراپردیش تو دوسرے نائیڈو مرکزی وزیر ہیں جن کا تعلق آندھراپردیش سے ہے۔ آندھرا والوں کی ابتداء سے حیدرآباد پر نظر رہی ہے۔

پہلے وہ ریاست کی تقسیم کے خلاف تھے۔ اگر تقسیم کیا جارہا ہے تو حیدرآباد کو مرکز کا زیرانتظام علاقہ بنانے پر زور دے رہے تھے۔ تاہم تلنگانہ والوں کی مخالفت کے بعد شہر حیدرآباد کو آئندہ دس سال تک دونوں تلگو ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام بنایا گیا ہے۔ حیدرآباد کے اطراف و اکناف آندھرا والوں کی بڑی بڑی جائیدادیں اور اثاثہ جات ہیں اس کے تحفظ کے لئے آندھرائی حکمراں ہائی کورٹ کی تقسیم میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ ایک سال قبل ناجائز تعمیرات منہدم کرنے کی تلنگانہ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی تھی جب انہدامی کارروائی شروع ہوئی تو آندھرا والوں نے ہائیکورٹ پہونچ کر حکم التواء حاصل کیا تھا۔ دراصل آندھرائی حکمراں، سیاستداں، تاجرین حیدرآباد میں اپنی جائیدادوں اور اثاثہ جات کا تحفظ کرنے کے لئے یہ وضاحت کررہے ہیں کہ 10 سال تک حیدرآباد دونوں ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام ہے۔ تقسیم ریاست کے قانون نے انھیں جو سہولت دی ہے وہ اس پر عمل کررہے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ہائیکورٹ کی تقسیم کے لئے دہلی میں احتجاج کا منصوبہ تیار کرتے ہی چیف منسٹر آندھراپردیش دہلی پہونچ گئے۔ مرکزی وزیرداخلہ اور دوسرے وزراء سے ملاقات کی۔ تلنگانہ حکومت پر تقسیم ریاست قانون کی خلاف ورزی کرنے تقسیم ریاست اور معاشی مسائل سے دوچار ہونے والے آندھراپردیش کو مزید پریشان کرنے دہلی میں موجود اے پی بھون کو بھی حاصل کرلینے کی سازش کا الزام عائد کیا اور تلنگانہ کی جائیدادوں کو 40 اور 60 فیصد کی حیثیت سے تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہی نہیں پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر بھی دونوں ریاستوں میں تنازعہ جاری ہے۔ دونوں چیف منسٹرس بات چیت کے ٹیبل پر جمع ہوکر مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ مگر دونوں اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مرکزی حکومت ان تنازعات سے اپنے آپ کو دور رکھے ہوئے ہے اور ان دونوں چیف منسٹر کو آپسی اتفاق رائے سے مسائل حل کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ تلگودیشم پارٹی این ڈی اے کی حلیف ہے لہذا مرکزی حکومت ایسا کوئی فیصلہ کرنے کے خلاف ہے جس سے دونوں جماعتوں کے اتحاد کو نقصان پہونچے اور ساتھ ہی وہ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت سے بھی رشتے بگاڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی کیوں کہ آندھراپردیش میں تلگودیشم اور بی جے پی کے درمیان سرد جنگ شروع ہوچکی ہے۔ آندھراپردیش میں تلگودیشم سے رشتہ ٹوٹنے کی صورت میں تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے رشتہ بنانے کی بی جے پی نے امکانات بنائے رکھے ہیں اور مصلحت کے ساتھ کام کرتے ہوئے کسی کو ناراض کئے بغیر اپنی میعاد مکمل کررہی ہے۔
147 محکمہ جات کے عملہ کی تقریباً تقسیم مکمل ہوگئی ہے۔ مزید 6 محکمہ جات، تعلیم، طب، پبلک ہیلت انجینئرنگ چیف، ایس پی ایف، ایوش، ڈی جی پی اسٹابلشمنٹ کی تقسیم کا عمل باقی ہے۔ ڈپٹی کلکٹرس، ڈی ایس پیز، عدالتی ڈپارٹمنٹ وغیرہ کا مسئلہ عدالتی کشاکش کا شکار ہے۔ ساتھ ہی 12 لاکھ فائیلس کی تقسیم بھی باقی ہے جس میں 7 لاکھ فائیلس آندھرا اور 5 لاکھ فائیلس تلنگانہ سے متعلق ہیں۔ بعض فائیلس مشترکہ بھی ہیں۔

محکمہ اقلیت بہبود کے اداروں کی بھی تقسیم عمل میں نہیں آئی ہے۔ صرف وقف بورڈ کی اصولی طور پر تقسیم ہوئی ہے مگر جائیداد اور اثاثہ جات کی تقسیم بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اردو اکیڈیمی، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن، حج کمیٹی، اقلیتی کمیشن کی تقسیم نہیں ہوئی ہے۔ ریاست کے بڑے بڑے اور اہم محکمہ جات کی تقسیم ہوگئی ہے مگر محکمہ اقلیتی بہبود کی تقسیم کو نظرانداز کیا جارہا ہے جس سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر اقلیتی اداروں میں تقسیم ہوتی ہے تو بے روزگار مسلم نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے اور اداروں کو انفرادی طور پر کاموں کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے مواقع فراہم ہوں گے۔ اقلیتوں کی فلاحی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری ہوگی۔ ساتھ ہی کارپوریشن اور بورڈ کے نامزد عہدوں پر تقررات کے لئے بھی راہیں ہموار ہوں گی۔ ریاست کی تقسیم کے دو سال بعد بھی اقلیتی اداروں کی تقسیم نہ ہونا معنی خیز ہے۔ عدم تقسیم کی وجوہات کیا ہیں؟ جو کمیٹی تقسیم کا جائزہ لے رہی ہے وہ تساہل سے کام لے رہی ہے یا اقلیتی اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر موجود عہدیدار تقسیم کا جائزہ لینے والی کمیٹی کو معلومات فراہم کرنے میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کررہے ہیں۔ ان اداروں میں خدمات انجام دینے والے تلنگانہ کے ملازمین خاموش کیوں ہیں۔ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھارہے ہیں۔ کونسی ایسی مجبوریاں تقسیم میں رکاوٹ بن رہی ہیں حکومت تلنگانہ خاموش کیوں ہے اور حکومت آندھراپردیش اقلیتی اداروں کو کیوں نظرانداز کررہی ہے۔ ملازمین کے شکوک کو دور کرنے کے لئے حکومت آندھراپردیش نے صدارتی حکمنامہ جاری کراتے ہوئے دو سال تک آندھراپردیش کے کسی بھی ضلع کا انتخاب کرنے پر آندھرا والوں کو اُس ضلع میں رکنیت دینے کا اعلان کیا ہے اور سکریٹریٹ میں کام کرنے والے آندھرائی ملازمین کے لئے مقررہ مدت طے کرتے ہوئے انھیں آندھرا طلب کیا ہے۔ تاہم اقلیتی محکمہ جات کی تقسیم اور عملہ کی طلبی پر خاموشی کیوں اختیار کی جارہی ہے۔ یہ سب محکمہ اقلیتی بہبود کے ساتھ ہی کیوں ہورہا ہے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ذہنوں میں آرہے ہیں مگر دونوں حکومتوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT