Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / اقلیتی موقف ‘ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو جواب داخل کرنے مہلت

اقلیتی موقف ‘ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو جواب داخل کرنے مہلت

چار ہفتوں میں جوا ب داخل کیا جائے ‘سپریم کورٹ ۔ یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ۔ مکل روہتگی
نئی دہلی 11 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو چار ہفتوں کا وقت دیا ہے تاکہ وہ مرکزی حکومت کے حلفنامہ پر جواب داخل کرسکے ۔ مرکزی حکومت نے اپنے حلفنامہ میں سابقہ یو پی اے حکومت کی اپیل سے دستبرداری اختیار کرلی تھی ۔ یہ اپیل الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے ۔ جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت والی ایک بنچ نے یونیورسٹی کو مرکزی حکومت کے حلفنامہ پر جواب داخَ کرنے کیلئے چار ہفتوں کا وقت دیا ہے جبکہ سینئر وکیل پی پی راؤ نے یونیورسٹی کی پیروی کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کچھ وقت طلب کیا تھا ۔ بنچ نے کہا کہ یونیورسٹی کے وکیل نے مرکزی حکومت کے حلفنامہ پر جواب داخل کرنے وقت طلب کیا ہے ۔ یہ وقت دیا گیا ہے ۔ یہ جواب چار ہفتوں میں داخل کیا جانا چاہئے ۔ گذشتہ ہفتے مرکزی حکومت نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی اپنی اپیل سے دستبرداری اختیار کر رہی ہے ۔ مرکزی حکومت کے علاوہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی ایک علحدہ درخواست ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی ۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور انہوں نے اس سلسلہ میں 1967 کے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے کیونکہ یہ حکومت نے قائم کیا تھا مسلمانوں نے نہیں۔ اس سے پہلے بھی مکل روہتگی نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو مرکزی حکومت کے قانون کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی دستوری بنچ نے 1967 میں عزیز باشاہ مقدمہ میں یہ کہا تھا کہ یہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے اقلیتی ادارہ نہیں۔ روہتگی نے کہا کہ اس یفصلہ پر عمل کو روکنے کیلئے 1981 میں مرکزی قانون میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ یونیورسٹی کو اقلیتی موقف دیا جاسکے لیکن اس قانون کو الہ آباد ہائیکورٹ نے غیر دستوری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عزیز باشاہ مقدمہ کے فیصلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور مرکز کا یہ موقف ہے کہ یونیورسٹی کو اقلیتی موقف دئے جانے سے عزیز باشاہ مقدمہ کے فیصلے کی نفی ہوجائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT