Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی و غیر اقلیتی اداروں میں اقلیتوں کی نمائندگی پر چیف منسٹر کی دلچسپی

اقلیتی و غیر اقلیتی اداروں میں اقلیتوں کی نمائندگی پر چیف منسٹر کی دلچسپی

مستحق ٹی آر ایس قائدین کی فہرست تیاری کے لیے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو ذمہ داری
حیدرآباد۔/13 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی سرکاری اداروں پر تقررات اور دیگر غیر اقلیتی اداروں میں اقلیتوں کی نمائندگی میں چیف منسٹر نے خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مستحق ٹی آر ایس قائدین اور کارکنوں کی فہرست کی تیاری کا کام ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے سپرد کیا ہے۔ چیف منسٹر نے اندرون دس یوم فہرستوں کی تیاری کی ہدایت دی جس کے مطابق ڈپٹی چیف منسٹر نے پارٹی قائدین سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ وہ پارٹی کے اقلیتی عوامی نمائندوں کے علاوہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں اور وزراء سے مشاورت کرتے ہوئے ضلع واری سطح پر پارٹی میں متحرک قائدین کی فہرست حاصل کریں گے۔ پارٹی کے قیام سے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین کو سرکاری عہدوں پر تقررات میں ترجیح دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے محمد محمود علی کو مشورہ دیاکہ  وہ کے ٹی راما راؤ کی امریکہ سے واپسی کے فوری بعد ان سے مشاورت کرتے ہوئے تقررات کا آغاز کریں۔ چیف منسٹر نے دسہرہ کے موقع پر فارم ہاوز میں پارٹی کے اقلیتی قائدین کو تیقن دیا کہ ان کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے گا۔ نہ صرف اقلیتی اداروں میں بلکہ دیگر اداروں میں بھی اقلیتوں کو نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر کارپوریشن میں اقلیتی طبقہ کے 2 تا 3 افراد کو شامل کیا جانا چاہیئے۔ ہر ضلع سے مناسب نمائندگی حاصل رہے۔ چیف منسٹر نے اقلیتی اسکیمات کے فوائد مستحقین میں پہنچانے کیلئے قائدین سے اہم رول ادا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ہر ضلع میں کم سے کم 100 غریب اقلیتوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعہ غریب اقلیتوں کو خود روزگار اسکیمات سے وابستہ کرنے کیلئے بینکوں کے بغیر راست قرض کی اجرائی یا پھر گاڑی کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں تاکہ غریب خاندان کا باآسانی گذارا ہوسکے اور معاشی حالات بہتر ہوں۔ ہر اسمبلی حلقہ میں کم سے کم 10 غریب خاندانوں کو فائدہ ملنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دسہرہ سے آئندہ 20دنوں میں اسکیمات کے فوائد کے نتائج منظر عام پر آنے چاہیئے۔ انہوں نے اقلیتی طبقہ کے ارکان اسمبلی اور کونسل سے اپیل کی کہ وہ اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں جامع منصوبہ اور تجاویز حکومت کو پیش کریں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ اقلیتی اقامتی اسکولس کی تعداد500 کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی دور ہو۔ انہوں نے کہا کہ 71 اسکولس کارکرد ہیں اور کابینہ نے مزید 90 اسکولوں کے قیام کو منظوری دے دی ہے۔ اس طرح آئندہ تعلیمی سال سے اسکولوں کی تعداد بڑھ کر 160 ہوجائے گی۔ اسی دوران باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی اداروں کیلئے موزوں قائدین کی فہرست تیار کرلی ہے جس پر عوامی نمائندوں سے مشاورت کے بعد چیف منسٹر کو پیش کیا جائے گا۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ جو امریکہ کے دورہ پر ہیں ایک ہفتہ بعد ان کی واپسی متوقع ہے۔ کے ٹی آر کی واپسی کے بعد تقررات کا عمل تیز ہوجائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلہ میں حج کمیٹی، اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی پر تقررات کی تجویز ہے۔

TOPPOPULARRECENT